حیاتِ نور

by Other Authors

Page 492 of 831

حیاتِ نور — Page 492

ـور MAA نام سے ہے۔اس نے سلطنت جان بوجھ کر چھوڑی۔اور تخت سے اتر کر چبوترہ پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔اب بھی میری قوم کے آدمی یاغستان میں شہزادے کہلاتے ہیں۔تو میرے تو وہم میں بھی نہ تھا کہ میں کسی جماعت کا امام ہوں گا۔لیکن جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ایک آن کی آن میں مجھے امام بنا دیا۔اور ایک قوم کا امیر بنا دیا۔تم سیکریٹری لوگ ہو۔پریذیڈنٹ بھی ہیں۔تمہیں کبھی کبھی مشکلات پیش آ جاتی ہوں گی۔اور پھر اس سے عناد بڑھ جاتا ہے۔اول تو اس غلطی سے کہ کیوں مجھے عہدہ دار نہ بنایا۔میرا اپنا تو ایمان ہے کہ اگر حضرت صاحب کی لڑکی حفیظہ (امتہ الحفیظ) کو امام بنا لیتے۔تو سب سے پہلے میں بیعت کر لیتا۔اور اس کی ایسی ہی اطاعت کرتا۔جیسی مرزا کی فرمانبرداری کرتا تھا۔اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھتا کہ اس کے ہاتھ پر بھی پورے ہو جاویں گے۔اس سے میری غرض یہ بتاتا ہے کہ ایسی خواہش نہیں ہونی چاہئے۔غرض کبھی اس قسم کی مشکلات آتی ہوں گی۔پس پہلی نصیحت یہ ہے اور خدا کے لئے اسے مان لو۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے۔لَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ۔اس منازعت سے تم بودے ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا بگڑ جاوے گی۔پس تنازعہ نہ کرو۔اللہ تعالیٰ چونکہ خالق فطرت ہے۔اور جانتا تھا کہ جھگڑا ہوگا۔اس لئے فرمایا وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ۔پس جب سیکریٹری اور پریذیڈنٹ سے منازعت ہو۔تو اللہ تعالیٰ کے لئے صبر کرو۔جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبر کرتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہو گا۔میر احق یہ ہے کہ میں تم کو نصیحت کروں۔تم نے عہد کیا ہے کہ تمہاری نیک بات مانیں گے۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ یہ مان لو۔قطعا منازعت نہ کرو۔جہاں منازعت ہو۔فورا جناب الہی کے حضور گر پڑو۔میں نے ابھی کہا ہے کہ اگر حفیظہ کو امام بنا لیتے تو اس کی بھی مرزا صاحب جیسی ہی فرمانبرداری کرتا۔پس تم مشکلات سے مت ڈرو۔مشکلات ہر جگہ آتی ہیں۔میرے اوپر بھی آئیں اور بڑی غلطی یا شوخی یا بے ادبی بعض آدمیوں سے ہوئی۔اب ہم نے درگذر کردی ہے۔مگر انہوں نے حق نہیں سمجھا۔کہ کیا امامت کا حق ہوتا ہے؟ یہ بھی کم علمی کا