حیاتِ نور

by Other Authors

Page 480 of 831

حیاتِ نور — Page 480

ـور حضرت نے جب دیکھا کہ کوئی مشورہ کر کے حضور کو جواب نہیں دیا گیا۔تو اس وقت تو حضور خاموش رہے۔مگر جیسا کہ آگے آئے گا۔ایک روز بیماری کا زور دیکھ کر رات کے وقت وصیت لکھ کر لفافہ میں بند کر کے اپنے ایک شاگرد شیخ تیمور صاحب ایم۔اے کو دیدی۔تو کل کا بلند مقام آپ اکثر فرمایا کرتے تھے۔کہ لوگ کہتے ہیں۔اگر نور الدین کے پاس طبابت کا پیشہ نہ ہوتا۔تو پھر ہم دیکھتے کہ آپ کس طرح محض تو کل پر گزارا کرتے ہیں۔اس سوال کا جو جواب حضور نے دیا۔اس کا ذکر تے ہوئے جناب ایڈیٹر صاحب الحکم لکھتے ہیں: ایک روز بعد مغرب میں آپ کی خدمت میں حاضر تھا۔چند اور احباب بھی موجود تھے۔فرمایا بیماری کا ابتلا بھی عجیب ہوتا ہے۔اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔اور آمدنی کم ہو جاتی ہے اور دوسرے لوگوں کی خوشامد کرنی پڑتی ہے۔میری آمدنی کا ذریعہ بظاہر طب تھا۔اب اس رشتہ کو بھی اس بیماری نے کاٹ دیا ہے۔جو لوگ میرے حالات سے واقف نہیں۔وہ جانتے تھے کہ اس کو طب ہی کے ذریعہ ملتا ہے۔مگر اب اللہ تعالیٰ نے اس تعلق کو بھی درمیان سے نکال دیا۔میری بیوی نے آج مجھے کہا کہ ضروریات کے لئے روپیہ نہیں۔اور مجھے یہ بھی کہا کہ مولوی صاحب! آپ نے کبھی بیماری کے وقت کا خیال نہیں کیا۔کہ بیماری ہو تو گھر میں دوسرے وقت ہی کھانے کو نہ ہوگا۔میں نے اسے کہا کہ میرا خدا ایسا نہیں کرتا۔میں روپیہ تب رکھتا۔جو خدا تعالیٰ پر ایمان نہ رکھتا۔اس پر میں نے کہا کہ حضور آپ کی بیماری کے ابتلا کو اس قسم کا ابتلا تو نہیں کہہ سکتے۔آپ کو کسی خوشامد کی ضرورت نہیں۔ڈاکٹر اور دوسرے لوگ اپنی سعادتمندی سمجھتے ہیں۔کہ آپ کی خدمت اس موقعہ پر کرسکیں۔فرمایا مجھ پر تو خدا کا فضل ہے۔اور یہ بھی فضل ہے۔میں نے تو عام طور پر ذکر کیا ہے۔حضرت یہ بیان کر ہی رہے تھے۔کہ شیخ تیمور صاحب نے مجھے کہا کہ حضرت کی ڈاک میں ایک خط آیا ہے کہ ایک شخص نے ایک سو پچیس روپے ذات خاص کے لئے ارسال کئے ہیں۔میں نے پوچھا۔حضرت کو علم ہے؟ شیخ صاحب نے کہا۔میں نے تو ابھی ڈاک نہیں سنائی۔کل سے آیا ہوا ہے۔میں نہیں بتا سکتا کہ مجھ پر اس