حیاتِ نور

by Other Authors

Page 478 of 831

حیاتِ نور — Page 478

ـاتِ نُـ ـور ۴۷۴ اور مجھے ایک نئی پگڑی بھی عنایت کی۔احباب پگڑی دیکھنے آتے۔اور ان کی خواہش ہوتی۔کہ پگڑی انہیں مل جائے۔لیکن میں نے حسب ارشاد اسے دھلا لیا اور دونوں پگڑیاں استعمال کرلیں ہے اس واقعہ میں نشان آسمانی انہی ایام میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نشان آسمانی“ کے عنوان کے ماتحت ایک مضمون لکھا۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس واقعہ سے قریباً پانچ سال قبل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا ایک خواب سے شائع کیا تھا کہ حضرت مولانا نورالدین صاحب گھوڑے پر سے گر پڑے ہیں۔جس وقت یہ خواب بیان کیا گیا تھا اس وقت نہ صرف حضرت خلیفہ المسیح اول کے گھر میں بلکہ قادیان بھر میں کسی احمدی کے پاس کوئی گھوڑا نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد کسی شخص نے میاں عبدالحی مرحوم کو ایک گھوڑی ہدیہ دی۔آپ اس پر سوار ہو کر حضرت نواب محمد علی صاحب کی ملاقات کے لئے ان کی کوٹھی دار السلام تشریف لے گئے۔اور جب واپس آنے لگے تو چونکہ وہ گھوڑی بچوں کی سواری کے کام آتی تھی۔اس لئے اس کی رکا میں چھوٹی تھیں۔کسی دوست نے کہا بھی کہ حضرت ! ر کا میں ذرا لمبی کر لیں۔مگر حضور نے فرمایا۔کہ نہیں! بچوں کو بعد میں تکلیف ہوگی۔اور عجیب قدرت الہی ہے کہ جس گلی میں سے آپ گزرنے لگے۔اس میں سوائے اس جگہ کے جہاں آپ گرے اور کسی جگہ بھی کوئی پتھر نہ تھا۔اگر ذرا بھی ادھر ادھر گرتے تو وہ چوٹ نہ آتی۔جو اس خاص جگہ پتھر پر گرنے سے آئی۔اس میں خاص تقدیر الہی کام کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خاص ارادے کے ماتحت حضرت اقدس کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے یہ حادثہ پیش آیا۔حضرت شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کی روایت ہے کہ اسی رات مغرب کی نماز میں حضرت فضل عمر نے جماعت کے لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک کاپی سے وہ الہامات پڑھ کر سنائے۔جن میں حضرت خلیفہ امیج اول کے گھوڑے سے گرنے کا پیشتر سے ہی ذکر تھا۔اگر چہ