حیاتِ نور — Page 459
۴۵۵ "ہم دو احمد یوں کو اپنے خرچ پر حج کے لئے بھیجنا چاہتے ہیں جو زاد راہ سے معذور اور حج کی تڑپ رکھنے والے صالح الاعمال اور متقی ہیں۔وہ درخواست کریں۔ایک ان میں ایسا ہو جو پہلے حج کر چکا ہو"۔اس نواب میاں محمد احمد صاحب کی پیدائش، ار جولائی ۱۹۱۰ء ار جولائی ۱۹۱۰ء کو حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے ہاں حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے بطن سے ایک صاحبزادے کی ولادت ہوئی جس کا نام محمد احمد رکھا گیا۔" حضرت امیر المومنین کی بغرض شہادت ملتان کو روانگی ۲۴ جولائی ۱۹۱۰ء ۱۲۴ جولائی ۱۹۱۰ء کو حضرت امیر المومنین خلیفہ امسح الاول کو ایک طبی شہادت دینے کے لئے لمان جانا پڑا۔جناب مولوی محمد علی صاحب ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور بعض دیگر احباب آپ کے ہمرکاب ہوئے۔۴ بجے شام آپ قادیان سے روانہ ہوئے۔جس یکہ پر حضرت مفتی صاحب سوار تھے وہ گھوڑے کی کمزوری کی وجہ سے پیچھے رہ گیا جب بٹالہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت امیر المومنین اور آپ کے ساتھی بذریعہ ریل گاڑی لاہور تشریف لے جاچکے ہیں۔مجبورا حضرت مفتی صاحب کو رات یالہ ٹھہر نا پڑا۔اگلے دن ۲۵ جولائی کو جب آپ لاہور پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت امیر المومنین ابھی تک لاہور ہی میں ہیں اور جناب شیخ رحمت اللہ صاحب کے ہاں کھانے پر تشریف لے گئے ہوئے ہیں۔یہ سن کر آپ نے الحمد للہ کہا اور اپنے آقا کے حضور تشریف لے گئے۔ای روز بعد نماز عصر جب حضرت امیر المومنین خلیفہ المسی شیخ صاحب موصوف کے مکان سے جناب خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان پر تشریف لائے۔تو نماز کے بعد محترم میاں فضل کریم صاحب سیالکوئی اور حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل نے آپ کے حضور در مشین کی چند نظمیں خوش الحانی سے پڑھ کر سنائیں اور چند دوست بیعت میں داخل ہوئے۔اس وقت ایک شخص نے عرض کی کہ میری اولاد کچھ پاگل ہے اور کچھ نالائق ہے۔فرمایا۔کچھ خیرات کرو۔اور دعا کرو اور استغفار کرتے رہا کرو اور ہرگز تجھکو۔اللہ تعالٰی سے نا امید نہ ہو۔خدا اپنے فضل سے سب کام ٹھیک کر دے گا۔بیعت کنندگان کو یہ نصیحت فرمائی کہ غفلت کی صحبت سے بچتے رہو اور اگر کوئی مجبوری پیش آوے تو استغفار بہت کرتے رہو۔