حیاتِ نور — Page 26
اب اول ۲۶ قصد کیا۔گرد آلود پاؤں جب اس چاندنی پر پڑے تو اس نقش و نگار سے میں خود ہی محجوب ہو گیا۔حکیم صاحب تک بے تکلف جا پہنچا اور وہاں اپنی عادت کے مطابق زور سے السلام علیکم کہا جولکھنو میں ایک نرالی آواز تھی۔یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ حکیم صاحب نے وعلیکم السلام زور سے یا دبی آواز سے کہا ہو مگر میرے ہاتھ بڑھانے سے انہوں نے ضرور ہی ہاتھ بڑھایا اور خاکسار کے خاک آلودہ ہاتھوں سے اپنے ہاتھ آلودہ کئے اور میں دوزانو بیٹھ گیا۔یہ میرا دوزانو بیٹھنا بھی اُس چاندنی کے لئے جس عجیب نظارہ کا موجب ہوا وہ یہ ہے کہ ایک شخص نے جواراکین لکھنو سے تھا، اس وقت مجھے مخاطب کر کے کہا کہ آپ کسی مہذب ملک سے تشریف لائے ہیں۔میں تو اپنے قصور کا پہلے ہی قائل ہو چکا تھا مگر خداشر برانگیزد که خیر مادران باشد ، میں نے نیم نگاہی کے ساتھ اپنی جوانی کی ترنگ میں اس کو یہ جواب دیا کہ یہ بے تکلفیاں اور السلام علیکم کی بے تکلف آواز وادی غیر ذی زرع کے امی اور بکریوں کے چرواہے کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم ، فداہ ابی واقعی۔اس میرے کہنے کی آواز نے بجلی کا کام دیا۔اور حکیم صاحب پر وجد طاری ہو گیا اور وجد کی حالت میں اس امیر کو کہا کہ آپ تو بادشاہ کی مجلس میں رہے ہیں کبھی ایسی زک آپ نے اُٹھائی ہے؟ اور تھوڑے وقفہ سے مجھے کہا کہ آپ کا کیا کام ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں پڑھنے کے لئے آیا ہوں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ میں اب بہت بوڑھا ہو گیا ہوں اور پڑھانے سے مجھے انقباض ہے۔میں خود تو نہیں پڑھا سکتا۔میں نے قسم کھائی ہے کہ اب نہیں پڑھاؤں گا۔میری طبیعت ان دنوں بہت جو شیلی تھی اور شاید سہم کا بقیہ بھی ہو اور حق تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہی کے کام ہوتے ہیں۔منشی محمد قاسم صاحب کی فارسی تعلیم نے یہ تحریک کی کہ میں نے جوش بھری اور دردمندانہ آواز سے کہا کہ شیرازی حکیم نے بہت ہی غلط کہا کہ ”رنجانیدن دل جہل و کفارہ یمین سہل اس پر ان کو دوبارہ وجد ہوا۔اور چشم پر آب ہو گئے۔تھوڑے وقفہ کے بعد فرمایا۔مولوی نور کریم حکیم ہیں اور بہت لائق ہیں۔میں آپ کو ان کے سپرد کر دوں گا اور وہ آپ کو اچھی طرح پڑھائیں گے۔جس پر میں نے عرض کی کہ ملک خدا