حیاتِ نور — Page 446
۴۴۳ ـور اس کے بعد آپ نے صداقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے موضوع پر ایک لطیف تقریر کی۔جس کے دوران میں فرمایا کہ میں نے ایک دفعہ شیخ نجم الدین صاحب افسر مال فیروز پور سے دریافت کیا کہ مرزا صاحب کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔تو شیخ صاحب نے فرمایا کہ ہمارے خاندانی پرانے تعلقات مرزا صاحب سے ہیں اور ہمیں ان کے حالات سے بخوبی آگاہی ہے اگر چہ مرزا صاحب کا دعوی میری سمجھ میں نہیں آیا۔تا ہم میں جانتا ہوں کہ وہ راستباز ہیں اور کبھی جھوٹ بولنے والے یا افترا کرنے والے نہیں ہیں۔اس شہادت نے میرے دل پر بہت اثر کیا کیونکہ یہ (شہادت) ایک غیر احمدی کی طرف سے ہے"۔آگئے "بدر" لکھتا ہے کہ شیخ صاحب موصوف ( یعنی شیخ نجم الدین صاحب افسر مال سمؤلف) اس جلسہ میں اس تقریر کو سن رہے تھے۔بعد انتقام جلسہ انہوں نے اقرار کیا کہ جو کچھ خشی فرزند علی صاحب نے میرے متعلق کہا ہے۔یہ بالکل درست ہے۔بیشک میری یہی رائے اور علم ہے۔พี حضرت شیخ عبدالرب صاحب کا قبول اسلام، ۲۹ راگست ۱۹۰۹ء حضرت شیخ عبد الرب صاحب جن کا پہلا نام شورام داس تھا ، حویلی بہادر شاہ ضلع جھنگ کے باشندہ تھے مگر اپنے والد محترم چانن داس صاحب سب انسپکٹر پولیس کے ہمراہ لائل پور میں مقیم تھے۔آپ کے والد صاحب نے آپ کو تجارت کا کام سکھانے کے لئے محترم شیخ محمد حسین صاحب مرحوم و مغفور کی فرم میں ملازم کروادیا۔اس زمانہ میں چونکہ لائل پور میں کوئی مسجد احد یہ نہیں تھی۔اس لئے احمدی احباب محترم شیخ صاحب موصوف کے پاس ہی نمازوں کی ادائیگی کے لئے جمع ہوا کرتے تھے۔ان لوگوں کی روحانی مجلس اور سوز وگداز سے لبریز دعاؤں اور کاروبار میں صادقانہ رنگ کو دیکھ کر محترم شیخ ید یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ لائل پور کے مشہور مالکان کارخانہ جات شیخ محمد اسماعیل، صبح مولا بخش اور شیخ میاں محمد صاحبان بھی چونکہ احمدی تھے اور اکثر نمازیں باجماعت ادا کرنے کے لئے محترم شیخ میاں محمد حسین صاحب کے پاس آیا کرتے تھے۔اس لئے آپ کے اسلام قبول کرنے کا ان کی تجارت پر یہ اثر پڑا کہ ہندوؤں نے جو غلہ منڈی پر چھائے ہوئے تھے ان لوگوں کے ہاتھ ظلہ فروخت کرنا بند کر دیا اور اس کام میں انہوں نے اس قدر شدت اختیار کی کہ تین دن تک شہر میں اور دس دن تک حملہ منڈی میں مکمل ہڑتال رہی۔آخر اس شرط پر صلح ہوئی کہ شیخ صاحبان ہمیشہ ہمیش کے لئے کو شالہ فنڈ ادا کیا کریں گے۔چنانچہ آفرین ہے ان لوگوں پر کہ انہوں نے ایک سعید روج کو کفر کے گڑھے سے نکالنے کے لئے یہ شرط منظور کر لی اور تقسیم ملک تک بھی ! یعنی ۱۹۴۷ء تک برابر کو شالہ فنڈ ادا کرتے رہے۔محر اہم اللہ احسن الجزاء