حیاتِ نور

by Other Authors

Page 431 of 831

حیاتِ نور — Page 431

ـور ۴۲۷ تم جانتے ہو۔برسات میں جب آم کی گٹھلیاں زمین میں اُگ آتی ہیں تو بچے اکھیڑ کر ان کی پیاں بناتے ہیں لیکن اگر اس آم کی گٹھلی پر پانچ چھ برس گزر جاویں تو باوجود یکہ یہ لڑکا بھی پانچ چھ برس گزرنے پر جوان اور مضبوط ہو جاویگا لیکن پھر اس کا کھیٹر نا دشوار ہوگا۔پس معلوم ہوا کہ جب تک جڑ زمین میں مضبوطی کے ساتھ نہ گڑ جائے اس وقت تک اکھیڑ نا آسان ہے اور جڑ مضبوط ہونے کے بعد دشوار ، عادات و عقا ئدہ بھی درخت کی طرح ہوتے ہیں۔بری عادات کا اب اکھیڑ نا آسان ہے۔لیکن جڑ پکڑ جانے کے بعد ان کا ترک کرنا یعنی اکھیڑ نا ناممکن ہوگا۔بعض بچوں کو جھوٹ بولنے کی عادت ہو جاتی ہے۔اگر شروع سے ہی اس کو دور نہ کرو گے تو پھر اس کا دور کرنا مشکل ہوگا۔ہم نے دیکھا ہے کہ جن کو بچپنے میں جھوٹ کی عادت پڑ گئی ہے پھر عالم فاضل ہو کر بھی ان سے جھوٹ کی عادت نہیں چھوٹی ہے۔دوسری نصیحت میں تم کو یہ کرتا ہوں کہ آج اگر تم نماز نہ پڑھو گے تو بڑے ہو کر تو بالکل ہی تم کو نماز کی عادت نہ رہے گی۔10 حضور نے ان دونوں نصائح کی مختلف مثالوں سے تشریح فرمائی۔ایک دریدہ دہن معترض جنوری 1909ء میں حضرت خلیفہ مسیح الاول نے حضرت میر ناصر نواب صاحب کی چندہ جمع کرنے کی مساعی کو پیش کر کے ایک شخص سے کہیں کہہ دیا کہ اگر آپ لوگ اسی جوش سے دینیات کی تعلیم کے لئے کوشش کرتے تو آپ بھی یقیناً کامیاب ہو جاتے۔اس پر اس نے جواب میں یہ نہایت ہی گندہ فقرہ کہہ دیا کہ جس قدر یہاں چندے وصول کئے گئے اور بیان کیا گیا وہ سب کچھ ایک بے ایمانی اور دھوکا اور فریب اور دغا بازی کا کام تھا۔جو شریر النفس لوگوں نے عربی تعلیم کے بہانے سے وصول کیا اور لوگوں کو دھوکا دیا اور وہ رو پید اپنی اغراض میں صرف کیا کرتے ہیں۔یادر ہے کہ اس معترض نے خود بھی بھی مالی جہاد میںحصہ نہیں لیا تھا۔اس لئے بظاہر اس کا اعتراض کوئی وقعت نہیں رکھتا تھا۔تاہم حضرت خلیفہ المسیح کو اس سے سخت تکلیف ہوئی اور آپ نے اس کے