حیاتِ نور

by Other Authors

Page 23 of 831

حیاتِ نور — Page 23

۲۳ حضرت مولانا محمد اسمعیل شہید کی تعریف کرنے پر علماء کا غصہ اور کن خاں کی طرفداری آپ کے ایک اُستاد تھے مولوی ارشاد حسین صاحب۔ان کو جو پتہ لگا کہ آپ سلسلہ نقشبندیہ کا مرید ہونے کے باوجود مولوی محمد اسماعیل صاحب شہید کی بہت تعریف کرتے ہیں تو وہ بہت بگڑے اور کہا کہ تم جانتے نہیں۔میں ان سے علم میں زیادہ ہوں۔آپ نے فرمایا: ہاں ! آپ ان سے علم میں زیادہ ہی سہی لیکن یہی تو اُن کا جذب ہے کہ میں اُنکے مقابلہ میں آپ کو یا کسی کو نہیں سمجھتا“۔آپ کا یہ جواب سن کر مولوی صاحب بہت ہی خفا ہو گئے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں جس محلہ میں رہا کرتا تھا وہاں ایک ان پڑھ مگر با اثر شخص ککن خاں بھی رہتے تھے ان کو ایک طالب علم عبد القادر خاں نے میرے خلاف جا کر خوب بھڑ کا یا اور کہا یہ طالب علم اس قابل نہیں کہ اس کی عزت کی جائے اس کا بہت سے مسائل میں مولوی ارشاد حسین صاحب سے تنازعہ ہے۔عبد القادر کی یہ بات سُن کر کن خاں نے اپنی تلوار نکال کر کہا کہ وہ مسئلے تو یہاں تلوار کی دھار پر لکھے ہوئے ہیں۔آپ پڑھنا چاہیں تو ہم ابھی پڑھانے کو موجود ہیں۔عبدالقادر خاں پکن خاں کی یہ بات سنکر اسی وقت بھاگ گیا اور پھر مکتب میں آ کر خود ہی مجھ سے یہ سب واقعہ بیان کر دیا۔لیکن آفرین ہے کلن خان کی شرافت پر کہ اس نے مجھ سے اس واقعہ کا قطعا ذ کر نہیں کیا۔البتہ میں نے جب ایک مرتبہ اس واقعہ کا ذکر کیا تو کہا اگر وہ ذرا زبان ہلاتا تو میں اس کا سر اڑا دیتا۔آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا آپ کو ایسا نہیں چاہئے تھا۔اگر خدانخواستہ یہ بات نواب صاحب تک پہنچتی تو آپ کو مشکل پیش آتی۔کہا کہ نہیں جناب ہمارا سارا محلہ ذبح ہو جائے گا تب کوئی آپ کو ہاتھ لگا سکے گا۔نواب صاحب ہوں یا کوئی ہوں“۔آپ فرماتے ہیں کہ میں اب تک کن خان کا ثنا خواں ہوں اور میں اس کو عنایت ایزدی سمجھتا ہوں“ ہے کثرت مطالعہ کے باعث سہر کا مرض اور عزم لکھنو رامپور میں آپ دو تین برس رہے اور ممکن ہے یہ قیام اور بھی لمبا ہو جاتا مگر کثرت مطالعہ سے آپ کو سہر کا مرض لاحق ہو گیا۔تحقیقات پر معلوم ہوا کہ اس وقت ہندوستان میں سب سے بڑے عالم