حیاتِ نور — Page 378
ور ۳۷۵ بھی خالی نہیں تھا۔خود حضرت خلیفہ المسیح اول کی آواز بھی شدت گریہ سے رک گئی۔اور کچھ اس قسم کا جوش پیدا ہوا کہ آپ نے پھر ایک دفعہ اس آیت کو دوہرایا۔اور تمام جماعت نیم بہل ہوگئی اور شاید ان لوگوں کے سوا جن کے لئے ازل سے شقاوت کا حصہ مقدر ہو گیا تھا۔سب کے دل دھل گئے اور ایمان دلوں میں گڑ گیا اور نفسانیت بالکل نکل گئی وہ ایک آسمانی نشان تھا جو ہم نے دیکھا اور تائید غیبی تھی جو شاہدہ کی۔نماز ختم ہونے پرحضرت خلیفہ امسیح اول گھر تشریف لے گئے۔۵۴ مگر حیف صد حیف که منکرین خلافت پر اس نماز کا ذرا بھی اثر نہ ہوا۔اور انہوں نے نماز کے معاً بعد پھر اپنی کا روائی کو شروع کر دیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ فرماتے ہیں: (انہوں نے ) پھر لوگوں کو حضرت مسیح موعود کی ایک تحریر دکھا کر سمجھانا چاہا کہ انجمن ہی آپ کی جانشین ہے۔لوگوں کے دل چونکہ خشیت اللہ سے معمور ہو رہے تھے۔اور اس تحریر کی حقیقت سے ناواقف تھے۔وہ اس امر کو دیکھ کر کہ حضرت مسیح موعود نے فیصلہ کر دیا ہے کہ میرے بعد انجمن جانشین ہوگی اور بھی زیادہ جوش سے بھر گئے مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ خشیت اللہ کا نزول دلوں پر کیوں دد۔ہو رہا ہے اور غیب سے کیا ظاہر ہونے والا ہے“۔20 حضرت میاں عبد العزیز صاحب مغل فرمایا کرتے تھے کہ مسجد میں پرو پیگنڈا کرنے کے بعد خواجہ صاحب حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی بیٹھک میں تشریف لے گئے۔اور لوگوں کے ہمراہ میں بھی تھا۔جناب خواجہ صاحب آرام کرسی پر بیٹھ گئے۔اور فرمانے لگے۔دیکھا جناب مولوی صاحب (خلیفہ المسیح الاول۔ناقل ) نے إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ الخ والی آیت کو بار بار دہرا کر کس قدر کرب اور گریہ وزاری کے ساتھ یہ امر ظاہر فرما دیا ہے کہ جولوگ انجمن کو جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا جانشین قرار دیا ہے، کچھ چیز نہیں سمجھتے اور خلافت ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، وہ جماعت میں فتنہ ڈال رہے ہیں اور انہیں اس فتنہ پردازی کی سخت سزا ملے گی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کا بیان ہے کہ خیر اس کے بعد میٹنگ ( جس کا آگے ذکر آتا ہے۔ناقل ) ہوئی۔اس میٹنگ کے متعلق بھی میں نے ایک رؤیا دیکھا تھا جو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو میں