حیاتِ نور

by Other Authors

Page 374 of 831

حیاتِ نور — Page 374

ادھر ساتِ تُـ کرے۔یہ دن اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ میرے لئے سخت ابتلا کے دن تھے دن اور رات غم اور رنج میں گزرتے تھے کہ کہیں میں غلطی کر کے اپنے مولیٰ کو ناراض نہ کرلوں مگر باوجود سخت کرب اور تڑپ کے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ نہ معلوم ہوا او لاہور میں جماعت احمدیہ کا ایک خاص جلسہ و خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنے مکان پر کیا اور لوگوں کو سمجھایا گیا کہ سلسلہ کی تباہی کا خطرہ ہے۔اصل جانشین حضرت مسیح موعود کی انجمن ہی ہے اور اگر یہ بات نہ رہی تو جماعت خطرہ میں پڑ جائے گی اور سلسلہ تباہ ہو جائے گا اور سب لوگوں سے دستخط لئے گئے کہ حسب فرمان حضرت مسیح موعود جانشین حضرت مسیح موعود کی انجمن ہی ہے۔صرف دو شخص یعنی حکیم محمد حسین صاحب قریشی سیکریٹری انجمن احمد یہ لاہور اور بابو غلام محمد صاحب فورمین ریلوے دفتر لاہور نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا اور جواب دیا کہ ہم تو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں۔وہ ہم سے زیادہ عالم اور زیادہ خشیت اللہ رکھتا ہے اور حضرت مسیح موعود کا ادب ہم سے زیادہ اس کے دل میں ہے۔جو کچھ وہ کہے گا ہم اس کے مطابق عمل کریں گئے۔۵۲ غرض لوگوں کو یہ یقین دلایا گیا کہ حضرت خلیفہ امسیح بھی یہی تسلیم کرتے ہیں کہ در اصل حضرت مسیح موعود کی جانشین انجمن ہی ہے۔لیکن اگر حضور نے اپنے وقار اور عزت کی خاطر اس امر کو تسلیم نہ کیا تو ہم نے تو آپ کی بیعت ہی اس لئے کی ہے کہ آپ ہمیں سلسلہ کی صحیح تعلیم پر چلائیں گے۔اس صورت میں ہم ان کو خلافت سے الگ کر دیں گے وغیرہ وغیرہ۔لاہور کے اس جلسہ کی روئداد جب مرکز سلسلہ میں پہنچی تو وہاں کے لوگوں نے بھی ایک جلسہ کر کے خلافت سے وابستگی اور مقام خلافت کی عظمت کے متعلق تقاریر کر کے ریزولیوشن پاس کیا کہ ہم لوگ ہمیشہ خلافت کے ساتھ وابستہ رہیں گے۔یہ جلسہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کی تحریک پر انہی کے بالا خانہ پر ہوا۔بیالیس آدمیوں میں سے صرف دو نے اختلاف کیا۔عجیب بات ہے کہ لاہور میں حاشیہ مولوی محمد علی صاحب مرحوم اس جلسہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان سوالات کے لاہور پہنچنے پر خواجہ صاحب سے بلاشبہ یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے بجائے علیحدہ جواب لکھنے کے جو حضرت مولوی صاحب کا منشا تھا احباب لاہور کا جلسہ کر کے سب کی متفقہ رائے ان سے لے کر لکھ بھیجا۔حقیقت اختلاف صفحہ ۶۱ ـور