حیاتِ نور

by Other Authors

Page 373 of 831

حیاتِ نور — Page 373

ـات : ـور دور ہی گیا تھا کہ مجھے کچھ شور معلوم ہوا۔مڑ کر کیا دیکھتا ہوں کہ میر صاحب بے تحاشا دیا سلائیاں نکال کر جلاتے ہیں اور اس بھوسے کو جلانا چاہتے ہیں مگر اس خیال سے کہ کہیں میں واپس نہ آ جاؤں۔جلدی کرتے ہیں اور جلدی کی وجہ سے دیا سلائی بجھ جاتی ہے۔میں اس بات کو دیکھ کر واپس دوڑا کہ ان کو روکوں مگر پیشتر اس کے کہ میں وہاں تک پہنچتا۔ایک دیا سلائی جل گئی اور اس سے انہوں نے اس بھوسے کو آگ لگا دی۔میں دوڑ کر آگ میں کود پڑا اور آگ کو بجھا دیا۔مگر اس عرصہ میں کہ میں اس کے بجھانے میں کامیاب ہوتا۔چند کڑیوں کے سرے جل گئے“۔حضور فرماتے ہیں: میں نے یہ رو یا مکرم مولوی سید سرور شاہ صاحب سے بیان کی۔انہوں نے مسکرا کر کہا کہ مبارک ہو کہ یہ خواب پوری ہو چکی ہے۔کچھ واقعہ انہوں نے بتایا مگر یا تو پوری طرح ان کو معلوم نہ تھا یا وہ اس وقت بتا نہ سکے۔میں نے پھر یہ رویا لکھ کر حضرت خلیفہ اسیح اول کی خدمت میں پیش کی۔آپ نے اسے پڑھ کر ایک رقعہ پر لکھ کر مجھے جواب دیا کہ خواب پوری ہوگئی۔میر محمد اسحاق صاحب نے چند سوال لکھ کر دیئے ہیں جن سے خطرہ ہے کہ شور نہ پڑے اور بعض لوگ فتنہ میں پڑ جائیں۔حضور فرماتے ہیں: یہ پہلا موقعہ ہے کہ مجھے ا فتنہ کاعلم ہوا۔اوروہ بھی ایک خواب کے ذریعے۔اس کے بعد وہ سوالات جو حضرت خلیفہ المسیح اول نے جواب کے لئے لوگوں کو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔مجھے بھی ملے اور میں نے ان کے متعلق خاص طور پر دعا کرنی شروع کی اور اللہ تعالیٰ سے ان کے جواب کے متعلق ہدایت چاہی۔اس میں شک نہیں کہ میں خلافت کی ضرورت کا عقلاً قائل تھا مگر باوجود اس کے میں نے اس امر میں بالکل مخلی بالطبع ہو کر غور شروع کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا میں لگ گیا کہ وہ مجھے حق کی ہدایت دے۔اس عرصہ میں وہ تاریخ نزدیک آگئی جس دن کہ جوابات حضرت خلیفہ المسیح اول کو دینے تھے۔میں نے جو کچھ میری سمجھ میں آیا لکھا اور حضرت خلیفہ المسیح اول کو دے دیا۔مگر میری طبیعت سخت بیقرار تھی کہ اللہ تعالی خود کوئی ہدایت