حیاتِ نور

by Other Authors

Page 355 of 831

حیاتِ نور — Page 355

ـاتِ نُ ـور ۳۵۳ خلافت سمجھتے تھے۔نیز حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی بیعت کو خلافت راشدہ کے ماتحت ہی قرار دیتے تھے۔نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی وفات کے بعد بھی خلافت کے سلسلہ کا اجراء ضروری سمجھتے تھے۔اب چونکہ غیر مبائعین کے نزدیک حضرت خلیفہ المسیح الاول کے تمام احکام خواہ وہ مسائل کے بارہ میں ہوں، غیر مبائعین کے نزدیک ان پر حجت ہیں اور ان سے اختلاف رکھنا مفہوم بیعت کے ساتھ ہنسی کرتا ہے۔اس لئے خلافت کے متعلق بھی تمام اقوال ان پر حجت ہوں گے۔وهذا هو المراد کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت ضروری تھی؟ آیت استخلاف کے پیش کرنے اور حضرت ابو بکر صدیق کی مثال دینے پر بعض غیر مبائعین بڑی سادگی سے یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو نبی تھے اور نبی کے بعد خلفاء کے وجود کے ہم بھی قائل ہیں۔مگر یہاں تو سوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت کا ہے جو ہمارے نزدیک غیر نبی تھے۔چنانچہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مرحوم تحریر فرماتے ہیں: ہم نے صاف کہہ دیا تھا کہ جناب مرزا صاحب نبی نہ تھے بلکہ آنحضرت صلعم کے خلیفہ تھے اور خلافت نبوت کی ہوتی ہے۔خلافت کی خلافت بے معنی بات ہے۔۔اس سوال کے جواب میں عرض ہے کہ اول تو یہ بات سرے ہی سے غلط ہے کہ حضور نبی نہ تھے۔لیکن اگر آپ لوگوں کو انکار پر اصرار ہو تو پہلے اپنے امیر مرحوم جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور اُن کے رفقاء خاص کی تحریریں نکال کر پڑھ لیجئے۔ان سے آپ پر واضح ہو جائے گا کہ حضور نبی تھے غیر نبی ہرگز نہ تھے۔ملاحظہ ہوں چند حوالجات: ۱۹۰۳-۱ء میں مولوی کرم الدین صاحب سکنہ بھیں ضلع جہلم کے مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی میں جو حضرت مسیح موعود کے خلاف دائر ہوا تھا، شہادت دیتے ہوئے مولوی محمد علی صاحب نے حلفاً بیان دیا تھا۔مرزا صاحب ملزم مدعی نبوت ہے۔مرزا صاحب بھولی نبوت کو تصانیف میں کرتے ہیں۔یہ دعویٰ نبوت اسی قسم کا ہے کہ " ہوں۔لیکن کوئی شریعت نہیں لایا۔۲۔پھر آپ فرماتے ہیں: