حیاتِ نور — Page 339
اتِ نُو سور الاول نے بیعت لی تھی۔اور وہ یہ تھے۔۳۳۷ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ (تين بار) آج میں نور الدین کے ہاتھ پر تمام ان شرائط کے ساتھ بیعت کرتا ہوں جن شرائط سے مسیح موعود مہدی معہود بیعت لیا کرتے تھے اور نیز اقرار کرتا ہوں کہ خصوصیت سے قرآن وسنت اور احادیث صحیحہ کے پڑھنے سننے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔اور اشاعت اسلام میں جان و مال سے بقدر وسعت و طاقت کمر بستہ رہوں گا اور انتظام زکوۃ بہت احتیاط سے کروں گا اور باہمی اخوان میں رشتہ محبت کے قائم رکھنے اور قائم کرنے میں سعی کروں گا۔اسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّي مِنْ كُلَّ ذَنْبٍ وَ أَتُوبُ إِلَيْهِ (تین بار) رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أنتَ تو جمہ : اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں۔میرے گناہ بخش کہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں۔آمین۔جلسہ سالانہ ۱۹۱۰ء کے موقعہ پر آپ نے الفاظ بیعت میں مندرجہ ذیل کلمات کا اضافہ فرمایا کہ میں شرک نہیں کروں گا۔چوری نہیں کروں گا۔بدکاریوں کے نزدیک نہیں جاؤنگا۔کسی پر بہتان نہیں لگاؤں گا۔چھوٹے بچوں کو ضائع نہیں کروں گا۔نماز کی پابندی کروں گا اور زکوۃ اور حج اپنی طاقتوں کے موافق ادا کرنے کو مستعد رہوں گاد بلکہ یہ بھی فرمایا کہ میں الفاظ بیعت میں یہ بھی بڑھانا چاہتا تھا کہ آپس میں محبت بڑھائیں گے۔مگر میں نے دیکھا کہ لوگ آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔اس لئے میں ڈر گیا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ معاہدہ کا خلاف کریں اور پھر معاہدہ کی خلاف ورزی سے نفاق پیدا ہو جاتا ہے۔ساری جماعت کا آپ کی خلافت پر اجماع او پر ذکر کیا جا چکا ہے کہ جس قدر جماعت قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد بارہ سو تھی۔ان