حیاتِ نور — Page 299
دارم ۲۹۷ ـور۔میں استغاثہ کر سکتا ہے۔اور پھر مقدمہ چلنے کی صورت میں مصائب کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ان حالات میں اگر ابھی اس وحی (یعنی ان شاننک هو الابتر ( کی اشاعت کے بارہ میں اخفاء سے کام لیا جائے تو مناسب ہوگا۔لیکن حضرت اقدس نے تو جو کچھ لکھا تھا۔الہی اشارہ سے لکھا تھا۔اس لئے حضور نے محترم خواجہ صاحب کے مشورہ پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔خواجہ صاحب نے جب دوبارہ کچھ عرض کیا تو حضرت اقدس نے بڑے جلال کے ساتھ فرمایا : میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ شریر انسان کو مجھ پر مسلط نہیں کرے گا اور اسے کسی آفت میں مبتلا کر کے اپنے اس بندہ کو جو اس کے حضور پناہ کا طالب ہے، اس کے شر سے محفوظ رکھے گا“۔آگے چل کر حضور لکھتے ہیں کہ جب میری یہ بات میرے یکتا مخلص فاضل ماہر علوم دین مولوی حکیم نورالدین صاحب نے سنی تو ان کی زبان پر حدیث رب اشعث اغبر جاری ہوئی۔اور میرے جواب کو سنکر اور نیز مولوی صاحب سے یہ حدیث سن کر جماعت کے لوگوں کو اطمینان حاصل ہو گیا اور انہوں نے اس وکیل کو جس نے مجھے ڈرایا تھا غلطی خوردہ قرار دیا اور اس کی تخویف کو بیچ سمجھا۔اس کے بعد میں نے دو تین روز تک سعد اللہ کی موت کے لئے خدا تعالیٰ کی جناب میں دعائیں کیں۔جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ وحی نازل کی کہ رب اشعث اغبر لو اقسم على الله لابرہ یعنی بعض لوگ جو عوام کی نظروں میں پراگندہ مواور غبار آلودہ ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور وہ مقام رکھتے ہیں کہ اگر وہ کسی بات کے متعلق قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کوضرور پورا کر دیتا ہے اور اس سے مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے شرسے تمہیں محفوظ کرے گا۔سو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ ابھی چند ہی روز گزرے تھے کہ اس کی ہلاکت کی خبر آ گئی۔۱۳ سید زادی سے نکاح ایک شخص نے حضرت اقدس کی خدمت میں سوال کیا کہ غیر سید کو سیدانی سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے نکاح کے واسطے جو محرمات بیان کئے ہیں ان میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ مومن کے واسطے سید زادی حرام ہے۔علاوہ ازیں نکاح کے واسطے طیبات کو تلاش کرنا چاہئے اور اس لحاظ سے