حیاتِ نور — Page 293
۲۹۲ میں ہے۔اس آیت کا مطلب وید میں پایا جاتا ہے اور اس کا خلاصہ ہندو اوستا میں مل سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔حضرت مولوی صاحب نے وہ کتاب تھوڑی دیر میں ختم کرلی اور پادری صاحب کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ پادری صاحب! آپ کی کتاب نے قرآن شریف پر میرے ایمان کو بہت ترقی دی۔اور میر الیقین اور بھی بڑھ گیا۔بیشک یہ خدا کا کلام ہے۔کیونکہ اس قدر دنیا کی مختلف کتابوں کا جمع کرنا۔پھر ہر ایک کتاب کی زبان جدا ہے۔سنسکرت، پہلوی، عبرانی، سریانی، پالی وغیرہ وغیرہ بہت زبانوں کو سیکھنا۔پھر کتابوں کو بغور مطالعہ کرنا۔جن میں سے ایک وید کے مطالعہ کے لئے ہی کم از کم چالیس سال کا عرصہ بتلایا جاتا ہے۔پھر ان سب میں سے صداقتوں کا نکالنا اور ایک جگہ جمع کر دین در حقیقت عرب کے بادیہ نشین امی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کام نہ تھا۔یہ خدا ہی کا کام تھا جو سب کتب اور زبانوں کا مالک ہے۔پادری صاحب! اس جمع کرنے کے علاوہ عظیم الشان صداقتوں کے دلائل صرف قرآن کریم نے دیئے اور عقل اور قانون قدرت میں تدبیر کرنے کی راہ کھولدی۔اگر آگے ملکی سلاطین جبر و اکراہ سے کام لیتے اور ہادیان دین اپنے مسائل کے سامنے کسی کو کلام کرنے کی اجازت نہ دیتے تھے اور استاد شاگردوں کے لئے آزادی کے مجاز نہ تھے تو اسلام نے افلا تعقلون، افلا تبصرون، افلا یتد برون القرآن کہہ کر آزادی بخشدی ۹۳ حضرت مولوی صاحب کا یہ جواب سن کر پادری صاحب ایسے خاموش ہوئے کہ گویا انہوں نے آپ سے کوئی سوال کیا ہی نہیں تھا۔دینیات کا پہلا رسالہ مئی ۱۹۰۶ء میں حضرت مولوی صاحب نے جماعت کے بچوں کو دینیات کے مسائل سکھانے کے لئے ایک رسالہ تصنیف فرمایا۔جس کا نام دینیات کا پہلا رسالہ " رکھا۔اس رسالہ میں نماز کی دعا ئیں، تیم ، اذان ، وضو، اوقات نماز ، فرائض ، سنن وغیرہ کے سب ضروری مسائل درج ہیں اور آخر میں قرآن شریف کی چند آخری سورتیں بھی درج کر دی گئی ہیں۔