حیاتِ نور

by Other Authors

Page 292 of 831

حیاتِ نور — Page 292

۲۹۱ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہو گا۔اور ہر ایک صادق الایمان کو اختیار ہوگا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے لیکن اس سے کم نہیں ہو گا۔سوم تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پر ہیز کرتا ہو اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو۔اور سچا اور صاف مسلمان ہو۔حضور نے اس مقبرہ کے انتظام کے لئے ایک انجمن بھی قائم کی جس کا نام انجمن کار پردازان مصالح قبرستان“ رکھا اور اس انجمن کا صدر حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کو مقرر فرمایا۔صدر انجمن احمدیہ کا قیام فروری ۱۹۰۱ء اس مذکورہ بالا انجمن کے علاوہ بعض اور انجمنیں بھی تھیں۔جیسے سکولوں کا انتظام کرنے والی انجمن مختلف تبلیغی رسالوں کا انتظام کرنے والی انجمن وغیرہ وغیرہ۔اس لئے حضور نے ایک مرکزی انجمن " صدر انجمن احمدیہ کے نام سے قائم فرمائی اور دوسری انجمنوں کو اس کے ماتحت قرار دیا۔" اس انجمن کا صدر بھی حضرت اقدس نے حضرت مولوی صاحب کو مقررفرمایا اور سیکریٹری جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کو۔ایک علمی لطیفہ ایک مرتبہ ایک پادری صاحب نے آپ سے ملاقات کی اور آپ کی خدمت میں ایک کتاب پیش کی۔جس کا نام تھا " عدم ضرورت قرآن۔اس کتاب میں پادری صاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ دیگر الہامی کتابوں کو اکٹھا کر کے انہیں عربی زبان کا لباس پہنا کر " قرآن کریم کی شکل میں پیش کر دیا گیا ہے۔چنانچہ انہوں نے قرآن کریم کی متعدد آیات کو جمع کر کے یہ اعتراضات کئے کہ یہ صداقت قرآن شریف کی تو راہ میں موجود ہے۔اور وہ انجیل