حیاتِ نور

by Other Authors

Page 252 of 831

حیاتِ نور — Page 252

اتِ نُـ ـور ۲۵۲ ہو کر کرنا چاہئے۔پھر مشکلات کا آسان ہو جاتا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔پھر قرآن کریم کے پڑھنے کا ڈھنگ یہ ہے کہ ایک بار شروع سے لے کر آخر تک خود پڑھے اور ہر ایک آیت کو اپنے ہی لئے نازل ہوتا ہوا سمجھے۔آدم و ابلیس کا ذکر آئے تو اپنے دل سے سوال کرے کہ میں آدم ہوں یا شیطان۔اسی طرح قرآن کریم پڑھتے وقت جو مشکل مقامات آدیں۔ان کو نوٹ کرتے جاؤ۔جب قرآن شریف ایک بار ختم ہو جائے تو پھر اپنی بیوی کو اور گھر والوں کو اپنے درس میں شامل کرو۔اور ان کو سُناؤ۔اس مرتبہ جو مشکل مقام آئے تھے انشاء اللہ تعالیٰ ان کا ایک بڑا حصہ حل ہو جاوے گا اور جواب کے بھی رہ جائیں ان کو پھر نوٹ کرو۔اور تیسری مرتبہ اپنے دوستوں کو بھی شامل کرو اور پھر چوتھی مرتبہ غیروں کے سامنے سناؤ۔اس مرتبہ انشاء اللہ سب مشکلات حل ہو جائیں گی۔مشکل مقامات کے حل کے واسطے دعا سے کام لو۔آپ کے ذریعہ جسمانی فیض یہ تو تھا روحانی فیض جو آپ کے ذریعہ مخلوق خدا کو پہنچتا رہتا تھا۔اب سنیئے جسمانی فیض کی کہانی۔قادیان دارالامان میں آپ نے ایک شفاخانہ اپنے صرف خاص سے کھول رکھا تھا۔جس میں ہر خاص و عام کو مفت دو ملتی تھی۔جنوری 19ء کے الحکم میں سابقہ سال کی رپورٹ بدیں الفاظ چھپی کہ ”روزانہ اوسط مریضوں کی ۲۰ سے لیکر ۵۰ تک رہی۔چنانچہ سال تمام میں جن لوگوں نے جسمانی فیض حاصل کیا ان کی تعداد قریبا ہمیں ہزار ہے۔ممکن ہے بعض قارئین کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ اگر آپ دوا کی قیمت نہیں لیتے تھے تو پھر گزارہ کی کیا صورت تھی؟ اس کے جواب میں عرض ہے کہ جو متمول مریض اچھے ہو جایا کرتے تھے وہ بعض اوقات کافی بڑی بڑی رقمیں بطور نذرانہ پیش کر دیا کرتے تھے اور ان ان مقامات اور افراد سے آپ کو منی آرڈر آیا کرتے تھے جہاں سے وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا۔اور آپ کے حالات زندگی کا مطالعہ کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام ضرورتوں کا خود ہی کفیل ہو جایا کرتا تھا چنانچہ حضرت شیخ محمد نصیب صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں دفتر محاسب میں ہیڈ کلرک تھا۔آپ میرے پاس کبھی کبھی کچھ رقم بھیجدیا کرتے تھے جسے میں ایک تھیلی میں ڈال کر محفوظ کر لیا کرتا تھا۔ایک مرتبہ