حیاتِ نور

by Other Authors

Page 249 of 831

حیاتِ نور — Page 249

۲۴۹ میں آخر اس نتیجہ پر پہنچتا کہ ہنوز اگر خدا تعالیٰ کو خوش کیا ہوتا اور واقعی خدا تعالیٰ سے سچا عشق پیدا ہو گیا ہوتا تو ضرور تھا کہ طمانیت اور سکینت کا سرد پانی میرے اہتے ہوئے کلیجے کوٹھنڈا کرتا۔اس خیال سے تر و دو تذبذب اور پریشانی اور بھی بڑھتی گئی۔میرے مخدوم مولوی صاحب بھی سید صاحب کی تصانیف منگواتے اور صفات الہی کے مسئلہ میں ہمیشہ سید صاحب سے الگ رہتے اور میں ان کے ساتھ ہو کر بھی سید صاحب کی ہر بات کی بیچ کرتا۔اور کبھی مولوی صاحب مجھے سے الجھ بھی پڑتے مگر میں اقرار کرتا ہوں کہ وہ میرے اس جن کے نکالنے میں کامیاب نہ ہوئے۔فتوحات ابن عربی اور امام غزالی کو میں نے کئی بار پڑھا اور خوب فور اور تدبر سے پڑھا۔مگر میں سچ کہتا ہوں کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کا ہی معاملہ رہا شاید میری روح ہی ایسی تھی کہ تسلی نہ پا سکتی تھی یا وہ خیالات واقعی طمانیت کا موجب نہ تھے۔مگر اب کہوں گا کہ وہ خیالات واقعی طمانیت بخش راہ نہ دکھا سکتے تھے۔بہر حال میں اس کو گناہ نہ سمجھتا تھا۔دل بیقرار رہتا تھا اور ایک دھڑکا لگا رہتا تھا۔میں نے کئی بار رویا میں دیکھا کہ بڑے جلتے ہوئے شعلے مارتی ہوئی آگ کے بھٹوں میں اور کوندتی ہوئی بجلیوں میں ڈالا گیا ہوں اور پھر کئی بار بصیرت کی آنکھ سے دیکھا کہ بہشت میں ڈالا گیا ہوں۔مگر میں وجوہات اور اسباب کو نہ سمجھا تھا۔اسی بیقراری اور اضطراب میں میری عمر کا ایک بڑا حصہ گزر گیا۔یہانتک کہ حضرت مولوی نورالدین کے طفیل سے امام الزمان، نور، مرسل اور خلیفہ اللہ کی صحبت نصیب ہوئی۔حضرت مولانا نورالدین کو تو بہت برس پیشتر براہین احمدیہ کے اشتہار کے ایک پرچہ نے اُس نور کا پتہ دے دیا تھا اور اس وقت ہمارے آقا وامام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ابھی گوشہ گزین تھے اور کچھ ارو مریز دنیا میں ہنوز قدم نہ رکھا تھا۔غرض مولوی صاحب نے مجھے امام الزمان کے متعلق فرمایا۔چونکہ مولوی صاحب کے ساتھ ایک خاص محبت اور ان پر اعلیٰ درجہ کا حسن ظن تھا۔میں نے