حیاتِ نور — Page 248
۲۴۸ کہ خدا کی رضا کی راہیں حاصل کروں اور میری بڑی خواہش اور سب سے بڑی آرزو یہی رہی ہے کہ کسی طرح پر اپنے مولیٰ کریم کو راضی کروں۔حضرت مولوی نور الدین صاحب ( خدا تعالیٰ ان پر اپنا بیحد فضل کرے) سے مجھے اللہ تعالٰی نے ملا دیا اور اس طرح مجھے دین کی طرف اور قرآن کریم کے معارف اور حقائق کی طرف توجہ ہوئی۔مگر بایں ہمہ بعض اخلاق رویہ کی اصلاح نہ ہوئی اور طبیعت معاصی کی طرف اس طرح جاتی جیسے ایک سرکش جانور رسہ خدا کر بے اختیار دوڑتا ہے اور قابو سے نکل جاتا ہے اور میری روح میں وہ سیری اور لذت نہ ہوئی جس کا کہ میں جو یاں تھا اس میں شک نہیں کہ قرآن کریم کے حقائق و معارف میں نے حضرت مولانا صاحب کے منہ سے سنے اور بہت فیض اُٹھایا اور میں اعتراف کرتا ہوں کہ پختہ مسلمان اور غیور بن گیا۔لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ کیا بات تھی جس سے روح میں ایک بیقراری اور اضطراب محسوس ہوتا تھا اور سکون اور جمیعت خاطر جس کے لئے صوفی تڑپتے ہیں۔میسر نہ آتی تھی۔اور اس اثنا میں ایک بڑی ناسزا بات اور ناشدنی گردن زدنی عقیدہ کی پرورش میں بڑا متوجہ تھا۔اور گویا بغل میں ایک بعل“ اور ”لات“ کو رکھتا تھا۔اور دل میں سمجھتا تھا کہ یہ خدا کی رضا کی راہ ہے مگر خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس کے اختیار کرنے میں بھی نیت نیک تھی۔سید احمد خانصاحب کے خیالات ابھی میں ۷ یا ۱۸ برس کی عمر کا لڑکا تھا کہ سید صاحب کے خیالات کے پڑھنے کا مجھے موقع ملا یعنی تہذیب الاخلاق جو سید صاحب کے خیالات اور معتقدات کا آئینہ تھا۔میں اسے شروع اشاعت سے پڑھنے لگا اور تمہیں برس کی عمر تک اس میں متوغل رہا۔سید صاحب کے قلم سے کوئی ایسا لفظ نہیں نکلا الا ماشاء اللہ جو میں نے نہ پڑھا ہو۔ان کی تفسیر کو بڑے عشق سے پڑھتا۔برابر میں بائیس برس کا زمانہ تھوڑا نہیں، ایک بڑی مدت ہے۔اس عرصہ میں بھی میری روح کو طمانیت اور سکین حاصل نہ ہوئی اور وہی اضطراب اور بیقراری دامنگیر رہتی۔بلکہ بعض اوقات میں اپنی تنہائی کی گھڑیوں میں ہلاک کرنے والی بے چینی محسوس کرتا اور