حیاتِ نور

by Other Authors

Page 222 of 831

حیاتِ نور — Page 222

۲۲۲ ایسا ہی ایک واقعہ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو پیش آیا۔آپ فرمایا کرتے تھے: ایک مرتبہ نماز پڑھنے کے لئے مسجد مبارک میں گیا۔میں دوسری یا تیسری رکعت میں شامل ہوا۔اور جس دروازے سے حضرت اقدس اندر تشریف لے جایا کرتے تھے وہاں ہی مجھے جگہ ملی۔جب جماعت ہو گئی تو باقیماندہ نماز پوری کرنے کے لئے کھڑا ہو گیا۔ادھر سے حضرت اقدس اندر تشریف لیجانے کے لئے کھڑے ہو گئے اور چل پڑے۔جب میرے پاس پہنچے تو میں نے سلام پھیر دیا۔میرے پاس ایک شخص کھڑا تھا۔اس نے مجھے آہستہ سے کہا کہ یہ آپ نے کیا کیا کہ نماز توڑ دی۔حضرت اقدس نے بھی یہ بات سن لی اور پیچھے مڑکر فرمایا کہ ان الحسنات يذهبن السيئات۔مولوی صاحب نے جو کچھ کیا ٹھیک ہے"۔جلسہ احباب کی مختصر رو داد حکومت ہند نے جشن جو بلی سے متعلق جو احکام جاری کئے تھے۔ان کے مد نظر اور اس امر کے شکریہ میں کہ اس حکومت میں تبلیغ اسلام اور فرائض اسلام کی بجا آوری میں آزادی ہے۔حضرت اقدس نے ۹ ارجون ۱۸۹۷ء کو جلسہ احباب کا اعلان فرمایا اور ۲۰ / اور ۲۱ / جون ۱۸۹۷ء کو حسب ہدایات وائس پریذیڈنٹ جنرل کمیٹی اہل اسلام ( شائع کردہ یکم جون ۱۸۵۷ء) یہ جلسہ منعقد ہوا۔اس جلسہ میں حسب ہدایات حضرت اقدس حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب ، حضرت مولوی عبد الکریم صاحب حضرت مولوی برہان الدین صاحب جیلی ، اور حضرت مولوی جمال الدین صاحب ساکن سید والہ نے تقاریر کیں اور پھر اجتماعی دعا کی گئی۔سفرملتان میں حضرت اقدس کی ہمراہی مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم بہاولپوری نے لاہور کے اخبار ناظم الہند پر ازالہ حیثیت عرفی کا دعوی دائر کیا تھا۔ناظم الہند کے ایڈیٹر سید ناظر حسین صاحب جو شیعہ تھے اور حضرت اقدس کے خلاف بہت سے اشتعال انگیز مضامین لکھ چکے تھے انہوں نے مخالفت کے باوجود اس مقدمہ میں اپنی طرف سے حضرت اقدس کو شہادت صفائی میں بطور گواہ طلب کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حضور کی شہادت دیں گے۔چنانچہ حضور ملتان تشریف لے گئے۔اس سفر میں حضور کے ہمراہ حضرت مولوی حکیم نورالدین