حیاتِ نور

by Other Authors

Page 212 of 831

حیاتِ نور — Page 212

۲۱۲ ـور کاروائی کے لئے ہمارے حکیم نورالدین صاحب پریسیڈنٹ مقرر ہوئے ہیں۔جو یہاں بیٹھے ہیں اور جن کو آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کیسے عالم فاضل اور دیندار ہیں۔میں اُن کی خدمت میں التماس کرتا ہوں کہ وہ آج کے دن کی کاروائی شروع کریں۔ماسٹر صاحب کے بیٹھنے پر حکیم صاحب نے ذیل کے مختصر اور پر معنی الفاظ میں کاروائی شروع کی ر حکیم مولوی نورالدین صاحب بھیروی میر مجلس " خدا تعالیٰ کی خاص مہربانی اور اس کا فضل اور اس کی ربوبیت عامہ اور اس کا وہ فضل جو خاص خاص بندوں پر ہوتا ہے اگر انسان کے شامل حال نہ رہے تو اس کا وجود کب رہ سکتا ہے۔منجملہ اس کی مہربانیوں کے جو ہم پر آجکل عطا فرمائی ہیں۔علم کے حاصل کرنے کے ذریعے اور اس کے مخازن ہیں، جو عطا کئے ہیں۔کاغذ کا افراط سے بنتا، مطبعوں کا جاری ہونا ، پوسٹ آفسوں کی ترقی ، کہ نہایت ہی کم خرچ پر ہم اپنے خیالات کو دور دراز ممالک میں پہنچا سکتے ہیں۔پھر تار کا عمدہ انتظام، ریل اور جہاز کے ذریعہ سفر میں آسانی یہ تمام انعام الہی ہیں۔اگر انسان شکر ادا نہیں کرتا تو وہ ضرور عذاب میں گرفتار ہوگا۔لیکن جو شکر کرتا ہے خدا اس میں بڑھوتی کرتا ہے۔میں نے اپنے ابتدائی زمانہ میں دیکھا ہے جو کتا ہیں ہمیں مشکل سے ملتی تھیں بلکہ جن کے دکھانے میں تامل اور مضائقہ ہوتا تھا تھوڑے زمانہ سے دیکھتے ہیں کہ قسطنطنیہ کی عمدہ عمدہ کتابیں اور ایسا ہی الجزائر ، مراکش، ٹیونس ، طرابلس اور مصر سے آسانی کے ساتھ گھر بیٹھے پہنچتی ہیں۔ہر ایک شخص کو واجب ہے کہ اس امن کے زمانہ میں اس نعمت الہی سے بڑا فائدہ حاصل کرے۔مذہب میرے نزدیک ایسی چیز ہے کہ کوئی آدمی دنیا میں بغیر قانون کے زندگی بسر نہیں کر سکتا۔گورنمنٹ کے قانون کی منشاء حقوق کی حفاظت ہے لیکن ان پر عملدرآمد کرنے کے لئے جو جو حدود باندھے گئے ہیں۔وہ اس قسم قانونوں پر کے ہیں کہ اُن سے ممکن ہے جرائم کا انسداد ہو۔لیکن محرکات جرائم کو روکنا ان کے احاطہ سے باہر ہے۔مثلاً یہ تو ممکن ہے کہ اگر کوئی شخص زنا بالجبر کا مرتکب ہو تو گورنمنٹ اسے سزا دے۔لیکن بدنظری سے، بد صحبتوں سے ، بدخواہشوں سے،