حیاتِ نور — Page 156
۱۵۶ فوت ہوں گئے۔قادیان میں آپ کی آمد حضرت اقدس کا جو خط اوپر درج کیا گیا ہے اس کے بعد جہائک سلسلہ کے لٹریچر کا تعلق ہے حضرت مولوی صاحب کی قادیان میں تشریف آوری کا پتہ اگست ۱۸۸۹ء میں لگتا ہے۔آپ کو شادی کے بعد ایک مرتبہ اپنی اہلیہ محترمہ کولو دھیانہ سے جموں لے جانے کے لئے جون میں آنا تھا۔حضرت اقدس نے آپ کو لکھا کہ لودھیانہ سے واپسی پر قادیان سے ہوتے جائیں۔لیکن یہ مفر ملتوی ہوتا ہوا اگست ۱۸۸۹ء میں ہوا۔۲۵ اگست ۱۸۸۹ء کو حضور نے حضرت چودھری رستم علی صاحب کو لکھا کہ مولانا نورالدین صاحب بصحت تمام جموں پہنچ گئے ہیں۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۳۰۹۷اج ایک عیسائی مسمی عبداللہ جیمز نے انجمن حمایت اسلام لاہور کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تین اعتراضات بغرض جوابات ارسال کئے تھے۔انجمن مذکور نے اس وقت کے بہترین حامیان دین متین یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب کی خدمت میں وہ اعتراضات بھیجے تا کہ ان بابرکت بزرگ ہستیوں سے ان کے جوابات حاصل کر کے انہیں زیور طبع سے آراستہ کر کے شائع کیا جائے۔چنانچہ ان دونوں واجب الاحترام مقدس بزرگوں نے جوابات لکھ کر بھیج دیئے اور انجمن حمایت اسلام نے انہیں مندرجہ بالا عنوان سے ایک رسالہ کی صورت میں شائع کر دیا۔یہ رسالہ کل ۷۲ صفحات پر مشتمل ہے۔پہلے اڑتالیس صفحات پر " مورد برکات رحمانی مصدر انوار قرآنی جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان" کے تحریر فرمودہ جوابات درج کئے گئے ہیں۔دوسرے نمبر پر صفحہ انچاس سے صفحہ سڑسٹھ تک ”علامہ دوران امام مناظرین زمان حامی دین متین مولانا مولوی حکیم نورالدین صاحب بھیروی“ کے جوابات شائع کئے گئے ہیں اور آخر میں صفحہ اڑسٹھ سے لے کر صفحہ بہتر تک ایک صاحب " عمدة المناظرین مولوی غلام نبی صاحب امرتسری“ کے جوابات درج کر کے رسالہ کو مکمل کیا گیا ہے۔قادیان میں تشریف آوری ، دسمبر ۱۸۸۹ء دسمبر ۱۸۸۹ء کی رخصتوں میں ملازمت پیشہ احباب عموماً قادیان آیا کرتے تھے اور اس سال تو چونکہ بیعت کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا اس لئے اور بھی لوگوں کو توجہ پیدا ہوئی۔چنا نچہ بعض احباب ضلع