حیاتِ نور

by Other Authors

Page 155 of 831

حیاتِ نور — Page 155

۱۵۵ صاحب بھی ساتھ تشریف لاویں تو بہت خوب ہو گا۔آنمحند دم اپنی طرف سے ان دونوں صاحبوں کو اطلاع دیں کیونکہ گاہ گاہ ملاقات ہونا ضروری ہے۔زندگی بے اعتبار ہے۔خاکسار غلام احمد عفی عنہ ۹ جنوری ۱۸۸۹ء آپ کی والدہ ماجدہ کی وفات ہئی ۱۸۸۹ء حضرت خلیفۃ اُسیح الاول کی والدہ ماجدہ جو ایک بہت ہی بزرگ خاتون تھیں اور جنہوں نے ساری عمر بھیرہ شہر کے بچوں اور بچیوں کو قرآن شریف پڑھانے میں صرف کر دی۔اسی پچاسی سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔ماہ اور سن وفات کا پتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک مکتوب سے ملتا ہے جو حضور نے کے ارمئی ۱۸۸۹ء کو جناب مرزا خدا بخش صاحب کو تحریر فرمایا تھا۔حضور لکھتے ہیں : خویم مولوی حکیم نورالدین صاحب ان دنوں کشمیر میں ہمیں۔ایک خط سے معلوم ہوا تھا کہ ان کی والدہ صاحبہ نفرت ہوگئی ہیں۔" پس قرین قیاس یہی ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی والدہ ماجدہ کی وفات مئی ۱۸۸۹ء میں ہی ہوئی ہوگی۔کیونکہ آپ کا یہ طریق تھا کہ ایسے اہم واقعات حضرت اقدس کی خدمت میں فوراً لکھ دیا کرتے تھے واللہ اعلم بالصواب۔عمر سے متعلق حضرت خلیفہ امسیح الاوّل ایک جگہ فرماتے ہیں: ” میری والدہ نے اسی برس تک قرآن پڑھایا۔ان کے ہم نو بچے تھے۔" مگر دوسری جگہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میری غذا ہے۔میں نے اسے اپنی والدہ ماجدہ سے جنہوں نے پچاسی برس کی عمر تک قرآن شریف پڑھایا اور جو محب قرآن تھیں، پڑھا ہے۔آپ کے ان ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ نے انداز اسی پچاس سال کی عمر پائی۔افسوس کہ آپ اپنی والدہ ماجدہ کی وفات کے موقعہ پر بھیرہ میں موجود نہیں تھے اور غالباً اس کا باعث یہ تھا کہ انہوں نے چاہا تھا کہ نورالدین کفن دفن میں شریک ہو اور ہم اس کے سامنے