حیاتِ نور

by Other Authors

Page 127 of 831

حیاتِ نور — Page 127

موقعہ کی مناسبت کے لحاظ سے ہمیں یہاں کتاب نورالدین کا ذکر کرنا پڑا ہے ورنہ اس کا اصل | موقعه ۱۹۰۳ ء کے حالات میں آئے گا۔احادیث پر عمل کرنا ہی حدیثوں کے یاد کرنے کا حقیقی ذریعہ ہے ایسا ہی جموں میں ایک اور خواب آپ نے دیکھا کہ خلا کا کے محلہ میں ٹھٹیروں کی دکان کے پاس جو مندر ہے۔اس مندر کے سامنے ایک پرچون کی دکان ہے جہاں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔آپ کو وہاں سے گزرتے دیکھ کر حضور نے فرمایا کہ تم آٹا ہمارے یہاں سے لے جاؤ۔یہ فرما کر حضور نے ایک لکڑی کے ترازو میں آٹا تو لا جو بظاہر ایک آدمی کی خوراک کے برابر تھا۔جب حضور آپ کے دامن میں آٹا ڈال چکے تو کفہ تر از وکو زور سے ڈنڈی سے مارا تا کہ سب آٹا آپ کے دامن پر گر جائے۔جب آپ آٹا اپنے دامن میں لے چکے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ حضرت! کیا حضور نے حضرت ابو ہریرہ کو کوئی ایسی بات بتائی تھی جس سے وہ آپ کی حدیثیں یادر کھتے تھے۔فرمایا ہاں۔آپ نے عرض کی کہ وہ بات مجھے بھی بتادیجئے تا کہ میں بھی حضور کی حدیثیں یاد کرلوں۔فرمایا۔اپنا کان میری طرف کرو۔جب آپ نے کان نزدیک کیا تو حضور کچھ فرمانا چاہتے ہی تھے کہ خلیفہ نور الدین نے آپ کے پاؤں کو زور سے دبایا اور کہا کہ نماز کا وقت ہے۔نورالدین کے نماز کے لئے اٹھانے سے آپنے اس خواب کی یہ تعبیر کی کہ احادیث پر نہیں کرنا ہی حدیثوں کے یاد کرنے کا ذریعہ ہے کیونکہ اُٹھانے والا بھی خواب کا فرشتہ ہی ہوتا ہے۔" خاص خدمت گاروں کو قرآن سُنانے کا واقعہ جموں میں آپ کو مہاراجہ کے خاص خدمتگاروں کو قرآن کریم سنانے کا بھی موقعہ ملا۔بعض ان میں سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ انہوں نے بر ملا طور پر اس امر کا اظہار کیا کہ قرآن شریف بڑی دلربا کتاب ہے اور حضرت مولوی صاحب کے سُنانے کا انداز بھی بڑا ہی دلچسپ اور اثر انگیز ہے۔گورنر کے بعض اعتراضات کے جوابات اور اُس کا تعصب دُور کرنے کی کوشش ریاست کے امراء اور وزرا میں اسلام سے متعلق جو غلط فہمیاں پائی جاتی تھیں آپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو بھی بہت حد تک دور کیا۔چنانچہ ایک مرتبہ وہاں کے گورنر پنڈت رادھا کشن صاحب