حیاتِ نور — Page 104
آیا اور کہا آپ پالکی میں سوار ہو جائیں اور یہ پالکی جموں واپس ہونے تک آپ کے ساتھ رہے گی۔میں نے اس کو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھا اور سوار ہو گیا۔اس میں خوب آرام کا بستر بچھا ہوا تھا۔میں اس میں لیٹ گیا اور شکریہ میں قرآن شریف کی تلاوت شروع کی۔وہ ایک مہینہ کا سفر تھا۔میں الحمد للہ جلدی ہی اچھا ہو گیا اور میں نے پالکی کو رخصت کرنا چاہا۔لیکن پالکی برداروں اور ان کے ہمراہی نے کہا کہ ہم کو دیوان جی کا حکم ہے کہ جب تک آپ جموں واپس نہ پہنچیں ہم آپ کی خدمت میں رہیں۔اس ایک ماہ کے سفر میں چودہ پارے زبانی یاد کر لئے آپ فرماتے ہیں: ” میں نے اس ایک مہینہ میں چودہ پارے قرآن شریف کے یاد کر لئے۔جب ہم جموں واپس پہنچ گئے تو میں نے پالکی برداران اور اُن کے افسر کو انعام دینا چاہا لیکن انہوں نے کہا کہ ہم انعام لے چکے ہیں۔ہم کو اسی دن دیوان جی نے انعام اور خرچ کے لئے کافی روپیہ دید یا تھا اور ان کا حکم ہے کہ آپ سے کچھ نہ لیں۔میں نے اس افسر کو بہت سمجھایا کہ اُن کو اطلاع کرنے کی ضرورت نہیں مگر اس نے تو اور اپنے پاس سے کسی قدر رو پید نکال کر میرے سامنے رکھ دیا اور کہا جو رو پیدا نہوں نے خرچ کے لئے دیا تھا وہ بھی سب خرچ نہیں ہوا۔اور اب ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ ان کو واپس دیں۔چنانچہ اس نے وہ روپیہ واپس نہ لیا اور میں نے خدا تعالیٰ کا فضل یقین کر کے وہ روپیہ لے لیا۔پھر اس کے بعد دیوان پھن واس نے میرے ساتھ اس قدر نیکیاں کیں کہ ان کے بیان کرنے کے لئے بڑے وقت کی ضرورت ہے۔دیوان کچھمن داس کو نصیحت یہی دیوان چھن داس جن کا اوپر ذکر ہوا۔ایک دفعہ ریاست کے وزیر اعظم ہو گئے۔ان کو پشتو بولنے کا بڑا شوق تھا اور ہمیشہ اپنی اردل میں پشتو بولنے والے ہی رکھتے تھے۔نتیجہ یہ تھا کہ جو شرفاء ملاقات کے لئے جاتے۔پشتون اُن کو دھکے مار مار کر باہر نکال دیتے۔ایک روز شیخ فتح محمد صاحب کو ـور