حیاتِ نور

by Other Authors

Page 98 of 831

حیاتِ نور — Page 98

۹۸ ریاست جموں و کشمیر میں ملازمت اندازاً ۱۸۷۶ء تا ابتدا ۱۸۹۲ء ایک بد عہد حص سے واسطہ شخص اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ وزیر اعظم ریاست جموں و کشمیر اور دیوان متھر اداس نے آپ کی طبعی قابلیت کا مہاراجہ رنبیر سنگھ والی ریاست جموں و کشمیر سے ذکر کیا۔ادھر انہی ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خواب میں آپ کی راہنمائی کشمیر کی طرف فرمائی۔بس یہ اسباب تھے جن کی بناء پر آپ کو مہا راجہ جموں و کشمیر نے ملازمت کی پیشکش کی اور آپ نے منظور فرمالی۔جب آپ جموں میں پہنچے تو سب سے پہلے آپ کا واسطہ ایک بدعہد شخص سے پڑا۔اور وہ اس طرح کہ آپ نے اپنے قیام کے لئے ایک مختصر سا بالا خانہ کرایہ پر لیا کیونکہ وہ دربار کے بالکل نزدیک تھا اس لئے آپ کو پسند تھا۔سرکار کی طرف سے اس کا مہتمم ایک ضعیف العمر آدمی تھا۔گو آپ نے اس سے ایک سال کے لئے اسٹامپ بھی لکھوا لیا تھا۔گو لئے لکھوالیا لیکن وہ دوسرے تیسرے دن ہی آکر کہنے لگا کہ ایک دوسرا آدمی مجھے آپ سے دُگنا کرا یہ دیتا ہے اس لئے آپ مکان خالی کر دیں۔آپ نے فرمایا کہ ہم تو تم سے ایک سال کے لئے اسٹامپ لکھوا چکے ہیں۔کہنے لگا۔میں اس تحریر کا کوئی اعتبار نہیں کرتا۔آپ نے فرمایا اچھا ہم ہی دگنا کرایہ دے دیں گے۔تھوڑی دیر کے بعد پھر آیا اور آ کر کہنے لگا کہ فلاں آدمی چوگنا کرایہ دیتا ہے۔آپ نے فرمایا بہت اچھا ہم بھی چو گنا کرایہ دیدیں گے۔چند لمحوں کے بعد پھر آ کر کہنے لگا کہ وہ تو بارہ گنا کر ا یہ دیتا ہے۔آپ نے اس کی پیرانہ سالی تمام شہر کے مکانوں کی سرکاری افسری، اور اس بد عہدی کو پیش نظر رکھ کر یہ فیصلہ کیا کہ اس شہر ہی کو چھوڑ دینا چاہئے۔یہ شریف آدمیوں کے رہنے کی جگہ نہیں۔یہ خیال کر کے آپ نے اپنے آدمی سے کہا کہ اس شہر سے ہمیں نفرت ہوگئی ہے۔اپنا اسباب باندھو، واپس چلیں۔چنانچہ جب سارا سامان نیچے اتار لیا گیا اور آپ ابھی اوپر ہی تھے کہ اس طرف سے ایک شخص فتح محمد نام رئیس گزرے اور اسباب کو دیکھ کر پوچھا کہ یہ کس کا اسباب ہے؟ اتنے میں آپ بھی پہنچ گئے۔اور فرمایا کہ یہ میرا اسباب ہے اور میں بدعہدوں میں رہنا پسند نہیں کرتا۔وہ سمجھ گئے اور فرمایا کہ آپ ہماے مکان پر چلیں۔یہ شخص جو سرکاری مکانوں کا افسر ہے، واقعی بد عہد ہے۔آپ نے فرمایا کہ مجھے اس شہر میں رہنا پسند ہی نہیں۔لیکن انہوں نے ایک نہ مانی اور اپنے آدمیوں کو کہا کہ سب اسباب اُٹھا کر میرے مکان پر لے چلو۔آپ فرماتے ہیں: