حیاتِ نور

by Other Authors

Page 96 of 831

حیاتِ نور — Page 96

2 ۹۶ ایک فالج کے مریض کے اچھا ہونے پر آپ کی طب کا چرچا انہی ایام میں ایک فالج کا بیمار آپ کے علاج سے اچھا ہو گیا جس کی وجہ سے بھیرہ کے گردونواح میں آپ کی طب کا غیر معمولی چرچا ہو گیا۔پھر آپ کے پڑوسی متھر اداس نام جموں کے محکمہ پولیس میں ملازم تھے۔وہ مرد قوق ہو کر آپ کے پاس بغرض علاج آئے۔ان کے علاج میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت کامیابی بخشی۔اسی اثناء میں دیوان کر پا رام وزیر اعظم جموں کا گزر پنڈ دادنخاں میں ہوا۔انہوں نے بھی آپ کی شہرت سنی اور واپس جا کر انہوں نے اور دیوان متھر اداس دونوں نے سرکار جموں سے آپ کا ذکر کیا۔جس کے باعث مہاراجہ کشمیر کے دل میں بھی آپ کی عظمت قائم ہوگئی۔ولی کی رضامندی کے بغیر ایک بیوہ کے ساتھ نکاح کے بعد خواب ان دنوں آپ کو ایک بیوہ کا پتہ لگا جسے آپ مختلف اسباب سے پسند کرتے تھے۔آپ نے اس کے یہاں نکاح کی تحریک کی۔وہ عورت تو راضی ہو گئی۔مگر چونکہ ملک کے لوگ بیوگان کے نکاح کو نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے اس لئے اس عورت نے کہا کہ آپ نکاح کر لیں کچھ دنوں کے بعد میرے ولی بھی راضی ہو جائیں گے۔آپ نے ان ولیوں کو اس خیال سے معزول سمجھا کہ وہ شریعت کے خلاف بیوہ کے نکاح کو روکتے ہیں اور نکاح کی جرات کرلی۔ابھی وہ عورت آپ کے گھر میں نہیں آئی تھی کہ آپ نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کا چہرہ زرد ہے۔زمین پر لیٹے ہیں اور داڑھی منڈی ہوئی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھ کر آپ ہوشیار ہو گئے اور سمجھ گئے کہ یہ نکاح سنت کے خلاف واقعہ ہوا ہے۔اس پر آپ نے ایک خط میاں نذیر حسین دہلوی اور ایک خط شیخ محمد حسین بٹالوی کو لکھا جس میں ان سے دریافت کیا کہ اگر بیوہ بالغ ہو مگر ولی نکاح میں روک بنے تو پھر کیا فتویٰ ہے؟ ان دونوں میں سے ایک کا جواب آیا کہ ایسے ولی معزول ہو جاتے ہیں اور بیوہ اپنے اختیار سے نکاح کر سکتی ہے کیونکہ حدیث لا نکاح الا بولی میں کلام ہے۔خدان انتباه یہ جواب آپ کے منشاء کے تو عین مطابق تھا۔اس لئے آپ اُٹھے کہ تا اس عورت کو گھر میں لے آویں۔مگر ابھی بیٹھک کے پھاٹک ہی پر پہنچے تھے کہ ایک شخص ایک حدیث کی کتاب لایا اور الائم ماحاك في صدرك ولو افتاك المفتون کی حدیث دکھا کر کہا کہ مجھے اس کا مطلب سمجھا دیجئے۔آپ فرماتے ہیں کہ