حیاتِ نور — Page 86
Ʌ1 بننے کے قرض کا خیال آنے پر ادائیگی کے اسباب آپ فرماتے ہیں: اس مکان کے بننے میں جب بارہ سو روپیہ خرچ ہو گیا۔تو مجھ کو خیال آیا کہ کہیں وہ ہندو اپنا روپیہ نہ مانگ بیٹھے۔میں اسی خیال میں تھا کہ میرے ایک دوست ملک فتح خانصاحب گھوڑے پر سوار میرے پاس آئے۔اور فرمایا کہ میں راولپنڈی جاتا ہوں کیونکہ لارڈلٹن نے دہلی میں دربار کیا ہے۔بڑے بڑے رئیس تو دہلی بلائے گئے ہیں اور چھوٹے رئیس راولپنڈی جمع ہوں گے اور انہیں تاریخوں میں راولپنڈی میں دربار ہوگا۔ہم راولپنڈی بلائے گئے ہیں۔میں نے اُن کے کان میں چپکے سے کہا کہ مجھ کو بھی دربار میں جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ گھوڑا ہے۔آپ اس پر سوار ہو جائیں اس وقت جس قدر میرے بیمار تھے وہ وہیں بیٹھے رہ گئے اور میں نے گھر میں بھی اطلاع نہیں کی۔اسی وقت سوار ہو کر چل دیا۔فتح خاں اور ہم دونوں جب جہلم پہنچے تو وہاں ریل تھی۔ملک فتح خاں مرحوم تو راولپنڈی چلے گئے۔میں نے کہا میں تو دلی جاتا ہوں۔میرے کپڑے بہت ہی میلے ہو گئے تھے۔اس لئے میں نے اپنے کپڑے اتار کر ملک حاکم خاں تحصیلدار جہلم کا ایک پاجامہ، پگڑی اور کوٹ پہن لیا جس کے نیچے کر نہ نہ تھا۔میں سیر کے لئے نکلا اور ٹہلتا ہوا اسٹیشن جہلم پر پہنچا۔کرایہ ریل کی فراہمی کا عجیب نشان میں نے اسٹیشن پر کسی سے دریافت کیا کہ لاہور کا تھرڈ کلاس کا کیا کرایہ ہے؟ معلوم ہوا کہ پندرہ آنہ، اس کوٹ کی جیب میں دیکھا تو صرف پندرہ آنے کے پیسے پڑے تھے۔میں نے ٹکٹ لیا اور لاہور پہنچا۔یہاں بڑی گھمسان تھی۔کیونکہ لوگ دربار کے سبب دہلی جا رہے تھے۔ٹکٹ کا ملنا محال تھا اور میری جیب میں تو کوئی پیسہ بھی نہ تھا۔ایک پادری جن سے کسی مرض کے متعلق طبی مشورہ دینے کے سبب میری پہلے سے جان پہچان تھی۔سٹیشن پر مل گئے۔ان کا نام گولک ناتھ تھا۔انہوں نے کہا کہ آپ کہاں جاتے ہیں۔ٹکٹ تو بڑی مشکل سے ملے