حیاتِ نور

by Other Authors

Page 82 of 831

حیاتِ نور — Page 82

Ar خوب بن ٹھن کر آئی اور کہنے لگی کہ تو بہ سے تو بھوکے مرنے لگے تھے۔ہولیوں میں فلاں مقام پر گئے تو اتنے روپے کما لائے۔مجھ کو شنکر بڑا جوش آیا۔میں نے کہا کہ اُٹھ جا یہ ہمارا مکان ہے۔تجھ کو یہ روپیہ کھانا بھی نصیب نہ ہوگا اور تو یہ بھی نصیب نہ ہوگی ، وہ اُٹھ کر چلی گئی ، جاتے ہی اس پر فالج گرا۔اس کا ایک رشتہ دار دوڑتا ہوا میرے پاس آیا۔میں نے کہا وہ اب نہیں بچے گی۔اس نے کہا خیر وہ نہ بچے لیکن روپیہ جو وہ لائی ہے وہ ہم کو معلوم نہیں کہ اس نے کہاں رکھا ہے؟ اتنا ہو کہ وہ روپیہ تو بتا دے کیونکہ ہمارے گھر جب کوئی مرتا ہے تو پانسو روپیہ برادری کی روٹی میں خرچ ہوتا ہے۔میں نے کہا وہ روپیہ بھی نہ ملےگا۔وہ سخت حیران ہوا۔آخر اس کے اصرار پر میں نے کہا۔اچھا چلو جا کر دیکھا کہ بالکل بیہوش پڑی ہے۔ایک آدمی نے بہت زور سے آواز میں دیں لیکن کچھ نہ بولی میں نے آس پاس کی تمام سے آواز نہ بولی میں نے بدکار عورتوں کو بلوایا ، وہ آ گئیں۔میں نے کہا اس نے توبہ کی حقارت کی ہے۔دیکھو اب یہ بغیر تو بہ مرتی ہے۔تم بتاؤ تمہارا کیا منشاء ہے۔ان میں سے جو سب سے زیادہ بد کار تھی ، اول اسی نے کہا کہ میں تو تو بہ کرتی ہوں۔میں نے کہا کہ تم اس کے مرنے پر کھانا بھی برادری کو نہ کھلاؤ کیونکہ اگر بد نامی بھی ہوگی تو کس قوم میں ؟ ان سب کی سمجھ میں آ گیا اور کوئی کھانا وغیرہ بھی برادری کو نہ دیا۔ا رب اشعث أغبرلو اقسم على الله لابره حدیث میں آتا ہے۔رب اشعث أغبر لو اقسم علی اللہ لابرہ یعنی بہت سے لوگ پراگندہ بالوں والے اور غبار آلو د ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم دے کر کسی بات کے متعلق کہہ دیں کہ یہ بات ضرور ہوگی تو اللہ تعالیٰ اُن کی قسم کو پورا کر دیتا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیع الاول کی زندگی میں بیسیوں ایسے واقعات پیش آئے کہ آپ نے کسی چیز کی خواہش کی اور اللہ تعالیٰ نے ظاہری اسباب کی موجودگی کے بغیر وہ چیز مہیا کر دی۔اس قسم کا ایک واقعہ آپ نے یوں بیان فرمایا کہ بھیرہ میں آپ نے اپنے ایک دوست سے چند مرتبہ ایک کتاب مستعار مانگی۔اس نے دینے کا وعدہ کرنے کے باوجود آخر انکار کر دیا۔اس کی زبان سے صاف جواب سن کر آپ کی زبان سے بے اختیار انا للہ وانا الیہ راجعون نکلا۔لیکن چند روز ہی گزرنے کے بعد اچانک ایک دن پشاور سے ایک بڑا پلندہ بذریعہ ڈاک آیا۔جس میں بھیجنے والے کا نام نہ تھا۔اس میں وہی کتاب، اس کتاب کی شرح اور اس فن کی اور کہتا ہیں۔