حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 78 of 104

حیاتِ ناصر — Page 78

حیات ناصر 78 اختلاف یا کمزوری کی روح اس وقت پیدا ہو جاتی ہے جبکہ اصل تعلیم کا علم نہیں ہوتا اور لوگ اسے بھول جاتے ہیں۔اس مقصد کے لئے ضروری تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کو لوگ پڑھیں تا کہ ان کو معلوم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حقیقی تعلیم کیا ہے۔غرض آپ اشاعت کتب کے لئے بہت جوش رکھتے تھے۔صحابہ مسیح موعود کی سوانح حیات کی اشاعت کا شوق حضرت میر صاحب قبلہ کو یہ بھی شوق تھا کہ لوگ اپنے حالات زندگی کو لکھ کر شائع کر دیں۔یہ تحریک دراصل حضرت مسیح موعود کی اس تحریک کا نتیجہ تھا جو حضور نے بیعت کے آغاز کے ساتھ ہی شروع کی تھی چنانچہ ۴ مارچ ۱۸۸۹ء کو جو اعلان حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شائع کیا تھا اس میں لکھا تھا کہ " مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض فوائد منافع بیعت کہ جو آپ لوگوں کے لئے مقدر ہیں اس انتظام پر موقوف ہیں کہ آپ سب صاحبوں کے اسماء مبارک ایک کتاب میں بقید ولدیت و سکونت مستقل و عارضی اور کسی قدر کیفیت کے (اگر ممکن ہو ) اندراج پاویں اور پھر جب وہ اسماء مندرجہ کسی تعداد موزوں تک پہنچ جاویں تو ان سب ناموں کی ایک فہرست تیار کر کے اور چھپوا کر ایک ایک کاپی اس کی تمام بیعت کر نیوالوں کی خدمت میں بھیجی جائے اور پھر جب دوسرے وقت میں نئی بیعت کرنے والوں کا ایک معتد بہ گروہ ہو جاوے تو ایسے ہی انکے اسماء کی بھی فہرست تیار کر کے تمام مبائیعین یعنی داخلین بیعت میں شائع کی جاوے اور ایسا ہی ہوتار ہے جب تک ارادہ الہی اپنے اندازہ مقدر تک پہنچ جائے۔“ اس تحریک کو خاکسار عرفانی نے ۱۸۹۸ء میں الحکم کے ذریعہ شائع کیا اور خود ارادہ کیا کہ احباب کے مختصر سوانح حیات شائع کروں مگر یہ سلسلہ ملتوی ہوتا آیا۔1911ء میں آپ نے اپنی مختصری لایف ناصر کیونکر متصور ہوا کے عنوان سے لکھ کر شائع کی اور اس میں آپ نے تحریک کی کہ اے دوستو ! تم بھی اپنا پچھلا اور پہلا حال سب مختصر سا لکھ دو تا کہ میں اسے شائع کر دوں اور جماعت کے لوگ اس سے فائدہ حاصل کریں اور تمہیں اور مجھے ثواب ہو اور قادیان کے ضعفاء کو کچھ پیسے مل جاویں۔چہ خوش بود که برآید بیک کرشمہ دوکار قابل رشک استقلال اس تحریک پر اگر چہ دوستوں نے عمل نہیں کیا لیکن حضرت میر صاحب قبلہ کے نامہ ء اعمال میں اس