حیاتِ ناصر — Page 30
حیات ناصر 30 ایک سخت معاند رہتا تھا اور لطف کی بات یہ ہے کہ حضرت نانا جان کو ایک زمانہ میں اس سے محبت تھی۔وہ اہلحدیث تھا اور خود میر صاحب بھی اہلحدیث تھے اور بوجہ اس کے نو مسلم ہونے کے بھی عزت کرتے تھے۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف جب گندی مخالفت کا سلسلہ شروع کیا اور ایک دو دشنام آمیز مثنویاں لکھ کر اپنے اندرونہ کا اظہار کیا۔حضرت نانا جان نے ، حضرت حسان کا کام کیا اور اس کے ہجو آمیز کلام کا جواب لکھا اور ایسا لکھا کہ باید و شاید بظاہر یہ معلوم ہوگا کہ نانا جان نے ہجو کی ہے مگر آپ کی یہ ہجوسب و شتم پر مشتمل نہ تھی بلکہ مدافعت تھی اور وہ بھی نہایت ہی عمدہ پیرایہ میں۔حضرت نانا جان کے ایسے کلام میں شاعرانہ نکات بھی ہوتے تھے۔آپ کا کلام نہایت معقول اور قابل قدر ہوتا تھا یہ آج سے قریباً تمیں برس پیشتر کی بات ہے اور جماعت میں ہزاروں نہیں لاکھوں آدمی آج نئے ہیں وہ ان حالات سے ہی واقف نہیں بلکہ ان کو اس کلام کا پتہ بھی نہیں اس لئے میں ان کی ضیافت طبع کے لئے چند شعر اس کے درج کرتا ہوں۔اک سگِ دیوانہ لدھیانہ میں ہے آج کل وہ خوشتر خانہ میں ہے مومنوں کا لائن و طاعن بنا کھل گیا سب اس کا نومسلم پنا شاعری پر اپنی اس کو ناز ہے ہے وہ شاعر یا کہ پھکڑ باز ہے اس کی بربادی کے ہیں آثار یہ دن بدن ہوگا زیاده خوار گرنہ باز آیا تو ہووے گا ذلیل اس پر نازل ہوگا ہر دم قہر ایل ( اللہ ) غرض حضرت نانا جان نے اس کے جواب میں ایک طویل نظم لکھ کر مخالفین پر حجت پوری کی اور اس کے خاتمہ پر ایک دعا لکھی جس کے دو شعر یہ ہیں۔اے خدا کر حق کو ظاہر زود تر دور کر دنیا سے باطل کا اثر اپنے مرسل کی مددکر اے خدا دن ہمیں تو کامیابی کا دکھا حقیقتا اگر غور کرو تو یہ نظم اپنے اندر پیشگوئی کا رنگ رکھتی ہے۔اعدائے سلسلہ اور حضرت کے خلاف بد گوشاعر کے متعلق جو کچھ آپ نے لکھا تھا وہ پورا ہوا اور اپنی دعا کی قبولیت کے لئے جو بارگاہ خدا میں عرض کیا تھا کہ