حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 11 of 104

حیاتِ ناصر — Page 11

حیات ناصر 11 تھا معلوم ہوتا تھا کہ مرکز ومنبع بہائم ہے یا درندوں کا ایک جنگل ہے اور یہ مثل مشہور ان پر صادق آتی تھی مسلمانان در گور و مسلمانی در کتاب آخر حضرت مرزا صاحب ان لوگوں سے مایوس ہو کر پٹیالہ میں تشریف لائے جہاں یہ عاجز ملازم اور مقیم تھا۔وہاں بھی نیم ملاؤں نے حضرت صاحب سے بہت شرارت کی اور کم بختی کی داد دی اور کچھ فائدہ مرتب نہ ہوا۔ناچار حضرت صاحب قادیان واپس تشریف لے گئے۔خدا کی قدرت پٹیالہ سے میری تبدیلی فیروز پور میں ہوگئی۔کچھ عرصہ کے بعد حضرت صاحب مع اہل و عیال ہم سے ملنے کے لئے فیروز پور تشریف لے گئے۔احباب بھی ان کے ساتھ تھے ایک ماہ تک ہمارے ہاں رہے اس وقت میاں محمود چھوٹے بچے تھے اور میاں بشیر تو گود ہی میں شیر خوار تھے۔فیروز پور سے مردان تبدیلی کا سبب اس وقت کچھ عرصہ گذر چکا تھا جبکہ بمقام امرتسر حضرت صاحب میں اور ڈ پٹی عبداللہ آتھم میں دین اسلام کی صداقت اور موجودہ مذہب عیسائی کی صداقت کی بابت گفتگو ہو چکی تھی اور پندرہ روز تک یہ مباحثہ رہاتھا۔حضرت صاحب نے اپنا ایک الہام سنا کر اس مباحثہ کو ختم کیا تھا۔الفاظ الہام مجھے یاد نہیں قریباً الہام یہ تھا کہ چونکہ ہمارے پندرہ روز اس مباحثہ میں گزرے ہیں اس لئے پندرہ ماہ تک اللہ تعالیٰ نے حکم کیا ہے میں جھوٹوں کو ذلیل و ہلاک کروں گا اور ان کو ہاویہ میں گرا دوں گا بشرطیکہ وہ حق کی طرف رجوع نہ کریں اگر حق کی طرف رجوع کریں تو عذاب سے محفوظ رہیں اور بچوں کو عزت دوں گا وغیرہ۔اس الہام کے دو پہلو تھے ایک عذاب کا اور ایک رجوع کا۔ڈپٹی عبد اللہ آتھم اس وقت ڈر گیا اور اس الہام سے سخت متاثر ہوا اور اس قدر ڈرا کہ امرتسر سے بھاگ گیا۔فیروز پور میں جا کر اپنے داماد متیا د اس کے مکان پر رہا پھر بھی سخت خوفناک تھا اور نہایت ڈرتا رہتا تھا۔اسے پریشان خواہیں آتیں اور ہر دم اسے اپنی موت پیش نظر رہتی تھی۔اس کی کوٹھی کے پاس ایک دفعہ بندوق کی آواز خدا جانے اصلی تھی یا د ہی اس نے اور اس کے معاونین نے سنی اور خیال کیا کہ مرزا صاحب نے اپنا الہام پورا کرنے کے لئے مجھ پر کچھ لوگ مقرر کر رکھے ہیں کہ وہ مجھے ہلاک کر دیں۔پھر سوچا کہ یہاں محکمہ نہر میں ان کے خسر میر ناصر نواب نقشہ نویس ہیں شائد انہیں کی وساطت سے یہ کام انجام پذیر ہو لہذا ان کو یہاں سے نکالنا چاہیئے واللہ اعلم کسی طرح میری تبدیلی فیروز پور سے ہوتی مردان کی ہوئی یا کرائی گئی یہ بھی ایک تغیر تھا جو مجھ پر وارد ہوا لیکن اس کے ایک ہی پہلو پر ہر ایک شخص نے خیال دوڑ ایا دوسری طرف کو فراموش کر دیا۔بالکل ڈپٹی عبداللہ آتھم کی موت کا خیال بلا استئے