حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 915 of 923

حیاتِ خالد — Page 915

حیات خالد 897 متفرقات کرنے کیلئے فرمایا تھا۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مولوی صاحب کو حضور کی اس طور پر نیابت کا فرض ادا کرنے کا بھی موقعہ عطا فر مایا۔☆۔ماہنامہ تحریک جدید - دسمبر ۱۹۸۳ء) تین مبلغ بھائی حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے بارہ میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آپ کے دو بھائیوں مکرم حافظ عبد الغفور صاحب اور مکرم مولوی عنایت اللہ صاحب جالندھری کو علی الترتیب جاپان اور سنگا پور میں مبلغ اسلام کے طور پر خدمت دین کی سعادت نصیب ہوئی۔مکرم حافظ صاحب ۹ جنوری ۱۹۳۷ء کو روانہ ہوئے اور ۳۰ اکتوبر ۱۹۴۱ء کو واپسی ہوئی۔مکرم عنایت اللہ صاحب ۱۸ / اپریل ۱۹۳۶ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور قریباً تین سال بعد سنگا پور سے واپس قادیان تشریف لائے۔☆۔کبابیر کا ایک دلچسپ واقعہ حضرت مولانا کے قیام فلسطین کی تفاصیل کا ذکر کتاب میں ہو چکا ہے۔مختلف تبلیغی واقعات بھی درج ہو چکے ہیں۔ایک مزید واقعہ قابل ذکر ہے۔عرب اساتذہ کا ایک گروپ احمد یہ مسجد کہا بیر آیا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے خود بیان فرمایا: - پھر ان اساتذہ نے پوچھا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ لوگ بانی سلسلہ احمدیہ کو نبی مانتے ہیں۔میں نے کہا کہ ہم لوگ قرآن وحدیث کے مطابق حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کو اُمتی اور غیر تشریعی نبی مانتے ہیں۔ایک استاد نے کہا کہ نبی تو سارے ارض مقدسہ فلسطین میں ہوئے ہیں۔کسی اور ملک میں نبی نہیں ہوا۔ہندوستان میں کیسے نبی ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ کہ ہر قوم میں نبی گزرے ہیں۔آپ سب نبیوں کو ایک ہی ملک سے مخصوص کیوں قرار دیتے ہو۔وہ اصرار کرنے لگے کہ نہیں، ارض مقدس کے علاوہ اور کسی ملک میں نبی نہیں ہوا۔میں نے پوچھا کہ کیا آپ حضرت آدم علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں؟ کہنے لگے کہ ہاں وہ نبی تھے۔میں نے تفاسیر سے دکھایا ان آدم أهْبِطَ بِاَرْضِ الْهِنْدِ که حضرت آدم علیہ السلام پہلے پہل ہندوستان میں ہی اُترے تھے۔میں نے کہا کہ