حیاتِ خالد — Page 905
حیات خالد 886 گلدستہ سیرت خدا سے بہت دعا کی اور مجھے یقین ہے یا آپ نے فرمایا کہ مجھے بشارت ملی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو نرینہ اولاد عطا فرمائے گا۔چنانچہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹا ( ڈاکٹر عبد الخالق جو اس وقت فضل عمر ہسپتال میں میڈیکل آفیسر ہیں ) عطا فرمایا۔عبد الخالق جب بھی حضرت مولوی صاحب سے ملتا تو آپ فرماتے تم تو میری دعاؤں کا نتیجہ ہو۔حضرت مولوی صاحب بہت ہی مستجاب الدعوات تھے۔آپ اپنے اساتذہ میں سے حضرت حافظ روشن علی صاحب اور قاضی امیر حسین صاحب کا خاص طور پر ذکر فرمایا کرتے تھے۔اس تعلق کی وجہ سے حضرت مولوی صاحب نے اپنی کتاب تمہیمات ربانیہ کو اپنے استاد حضرت حافظ روشن علی صاحب سے معنون کیا۔اللہ تعالیٰ ان بزرگ اساتذہ کو جزائے خیر دے۔حضرت مولانا اپنے شاگردوں کی بہت دلجوئی فرماتے تھے۔آپ میری تقریروں کے بعد تعریفی کلمات فرماتے تو میں آپ سے یہی عرض کرتا کہ یہ اساتذہ کی تربیت کا نتیجہ ہے۔بعض اوقات آپ میرے غلط تلفظ کی اصلاح بھی فرماتے۔آپ اپنے سارے شاگردوں سے بہت محبت اور بے تکلفی سے پیش آتے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ طلباء آپ کے ادب و احترام میں کوئی کمی کرتے۔جامعہ کا پرنسپل ہوتے ہوئے آپ نے ایک ہار جامعہ کے طلباء اور اساتذہ کے ساتھ سوات کی طرف ہائیکنگ بھی کی۔جامعہ کی تعلیم کے دوران آپ طلباء و اساتذہ سے والی بال اور بیڈمنٹن بھی کھیلتے۔آخری سالوں میں آپ صرف سیر پر ہی اکتفا فرماتے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی گھریلو زندگی بہت خوشگوار تھی۔آپ بسا اوقات تحدیث نعمت کے طور پر اس کا اظہار فرماتے اور پھر بڑی حسرت سے یہ ذکر فرماتے کہ میری پہلی بیوی نے تنگی کا زمانہ میرے ساتھ بسر کیا۔جب کشائش کے ایام آئے تو وہ خدا کو پیاری ہو گئی۔حضرت مولوی صاحب بہت مہمان نواز تھے۔اکثر خدام سلسلہ کو چائے وغیرہ پر گھر بلاتے بعض دفعہ قابل اصلاح نو جوانوں کو چائے پر بلا کر نصیحت فرماتے۔غرضیکہ آپ گونا گوں صفات حسنہ کے مالک اور دلکش شخصیت رکھتے تھے۔اللہ تعالی نے آپ میں جذب و انجذاب کی صلاحیتیں رکھی تھیں۔آپ ہر نیکی کی طرف کھنچے چلے جاتے اور لوگ آپ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اعلیٰ علمین میں جگہ دے اور ہمیں آپ کی طرح خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*