حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 901 of 923

حیاتِ خالد — Page 901

حیات خالد 882 گلدستۂ سیرت زبر دست آدمی محترم صاحبزادہ مرزا فرید احمد صاحب) زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن سے گو بظا ہر جسمانی تعلق نہیں ہوتا لیکن روحانی تعلق اس قدر شدید ہوتا ہے کہ نہایت انمٹ نقوش دل و دماغ پر چھوڑ جاتی ہیں۔میرے ذہن پر بھی حضرت مولوی صاحب کی شخصیت کے اتنے گہرے اور انمٹ نقوش ہیں کہ اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی ان کی یا دطبیعت کو بے چین کر دیتی ہے۔ان کی شخصیت نہایت متوازن شخصیت تھی نہایت درجہ ہنس مکھ اور بے حد مہمان نواز۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایک طرف طرز گفتگو نہایت مؤثر اور دکش دوسری طرف ہر شخص کی سمجھ اور مزاج کے مطابق۔بچوں کے ساتھ بچوں جیسا انداز نوجوانوں کے ساتھ ان کی طرح کی باتیں بزرگوں میں بیٹھیں تو اسی طریق پر گفت وشنید کئی بار ایسا ہوا کہ دار الرحمت کے علاقہ میں جہاں اکثر شام کو حضرت مولوی صاحب سیر کرتے تھے ملاقات ہو گئی تو زبردستی اپنے مکان پر لے گئے اور نہایت اعلیٰ درجہ کی کافی یا چائے پلوائی۔خاطر مدارت میں سادگی بھی تھی لیکن اس قدر شوق اور مسرت ہوتی تھی کہ مہمان کا لطف دوبالا ہو جاتا تھا۔میں نے ایک دفعہ مذاقاً کہا بھی کہ مولوی صاحب میں نے بہت کم ایسے مولوی دیکھے ہیں جو کھلا کر نہایت درجہ خوش ہوتے ہیں۔جس روز آپ کی وفات ہوئی میں نے نہایت ضروری کام سے ربوہ سے باہر جانا تھا اور اگلے روز ملک سے باہر جانے کا پروگرام تھا پر اس وفات کا صدمہ اتنا گہرا تھا کہ میں نے پروگرام ملتوی کیا اور بعد از تدفین روانگی اختیار کی میرے دل نے یہ گوارا نہ کیا کہ ایسی عظیم ہستی کے جنازہ و تدفین میں شرکت سے خود گنہگار کومحروم رکھوں۔وفات کی خبر سن کر سیدھا آپ کے گھر گیا آپ کے عزیزوں میں سے ایک جن کا نام یاد نہیں فوراً ہی مجھے اس کمرہ میں لے گئے جہاں حضرت مولوی صاحب کا جسم خاکی تھا۔میں نے آر کے چہرہ پر اتنا سکون اور نور دیکھا جو کم ہی دیکھنے میں آتا ہے واپس آیا تو حضور نے دریافت فرمایا مولوی صاحب کے ہاں گئے تھے؟ میں نے عرض کی جی حضور اور ساتھ ہی کہا حضور میں نے مولوی صاحب کے چہرے پر بہت ہی سکون اور بہت ہی نو رو دیکھا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا :-