حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 892 of 923

حیاتِ خالد — Page 892

حیات خالد مشہور شخصیتیں ہیں۔873 گلدسته سیمر یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ دنیائے اسلام ابوالعطاء کے نام کی تین شخصیات میں ابو العطاء کی کنیت سے تین شخصیتیں ابھری ہیں۔اول: ابوالعطاء سندھی۔اموی دور کا قادرالکلام شاعر جو سندھی ہونے کے باعث عربی کے بعض حروف کا تلفظ صحیح طور پر ادا نہ کر سکتا تھا۔اس نے اپنے ایک غلام کا نام عطا رکھا اور اسے متبنیٰ بنا کر اپنی کنیت ابو العطا در کھلی۔شخص عرصہ تک زندہ رہا اور بنوامیہ اور بنوعباسیہ کی جنگوں میں داد شجاعت دی۔تاریخ سندھ صفحه۳۶۰ از مولاناسید ابوظفر ندوی ریسرچ سکالر گجرات در منکر سوسائٹی احمد آباد مطبع اعظم گڑھ ۱۹۴۷ء ایضاً الاعلام جلد ۴ صفحه ۲۳۵ مرتبه السید خیر الدین زرکلی مطبوعہ بیروت) دوم :۔حضرت مسیح موعود کے رفیق اور ضلع جھنگ کے اولین احمدی ابوالعطاء مرزا خدا بخش صاحب مصنف عسل مصفی ( وفات ۶ ۱ اپریل ۱۹۳۷ء) سوم : خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری (وفات: ۳۰ رمئی ۱۹۷۷ ء ) ان تینوں حضرات میں صرف خالد احمدیت کو حق تعالیٰ نے شہرت دوام بخشی۔آپ ہی کے بیش قیمت لٹریچر کو سند قبولیت حاصل ہوئی اور آپ ہی ہیں جن کے قابل فخر شاگرد بلکہ شاگردوں کے شاگرد دنیا بھر میں دین حق کا جھنڈا والہانہ انداز میں بلند رکھے ہوئے ہیں اور برق رفتاری سے شاہراہ غلبہ اسلام پر گامزن ہیں اور اس یقین سے لبریز ہیں کہ : - خدا نے ہے خضر رہ بنایا ہمیں طریق محمدی کا جو بھولے بھٹکے ہوئے ہیں ان کو صنم سے لا کر ملائیں گے ہم مٹا کے کفر و ضلال و بدعت کریں گے آثار دیں کو تازہ خدا نے چاہا تو کوئی دن میں ظفر کے پرچم اُڑائیں گے ہم خاکسار بھی حضرت مولانا صاحب کے ادنی شاگردوں اور کنش برداروں میں سے ہے۔عاجز کو جامعہ احمدیہ قادیان میں ۱۹۴۴ء سے ۱۹۵۰ء تک آپ سے شرف تلمذ رہا۔ازاں بعد ۳۰ رمئی ۱۹۷۷ء یعنی آپ کے دم واپسیں تک آپ کے دامن فیض سے وابستگی نصیب ہوئی۔اس ۳۳ سالہ طویل دور رفاقت کی یاد میں ایک مستقل تصنیف کا تقاضا کرتی ہیں۔سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیے