حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 866 of 923

حیاتِ خالد — Page 866

حیات خالد 847 گلدستۂ سیرت ساتھ لگا لیا کہ بچڑا حوصلہ کرو اور بڑے ابا جان کے چٹان جیسے عزم وحوصلہ کو دیکھ کر دل کو تسلی ہوئی۔واپسی پر سارے راستہ بڑے ابا جان مزے مزے کے لطیفے سناتے رہے کہ ہمیں ابو جان کے جانے کی اداسی محسوس نہ ہو۔ابو جان کے جانے کے بعد بڑے ابا جان نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ہمیں پڑھائی میں کچھ وقت ہو رہی تھی۔بڑے ابا جان ہماری خبر رکھتے تھے۔چنانچہ انہوں نے امی کی درخواست پر ماسٹر صاحب کا انتظام کر دیا۔وہ بزرگ ماسٹر مکرم حمید اللہ خان صاحب مرحوم ایسے تھے جو سکول کی پڑھائی تو کرواتے ہی تھے ساتھ ساتھ قرآن حدیث اور دعاؤں کی بھی خوب تعلیم دیا کرتے تھے۔بڑے ابا جان ہم بچوں کے کردار پر بھی خوب نظر رکھا کرتے تھے اور آتے جاتے نصیحت فرما دیا کرتے تھے۔مثلاً کسی ہمسائے کے گھر میں دیکھا کہ ہمارا آنا جانا بہت ہے تو پیار سے سمجھا دیا کہ حد سے بڑھی ہوئی دوستیاں اچھی نہیں ہوتیں۔ہر تعلق اور رشتے میں اعتدال کے ساتھ تعلق رکھنا چاہئے۔ابو جان کے افریقہ جانے سے پہلے ہی جب میری عمر تیرہ سال تھی میری خالہ کے گھر سے میرے لئے رشتہ آیا تو امی جان نے میری خالہ جان سے کہا کہ آپ بڑے ابا جان سے درخواست کریں کہ ان کے مشورے اور دعاؤں کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھانا۔بڑے ابا جان نے میرے رشتہ کے بارہ میں فرمایا کہ میں نے لڑکا دیکھا ہے اور خاندان بھی نیک شریف ہے۔میرے والد صاحب نے کہا کہ میں نے تو استخارہ کیا ہے تسلی ہے لیکن ابا جان آپ استخارہ کریں تو بڑے ابا جان نے فرمایا کہ چونکہ مجھے اس رشتہ میں شرح صدر ہے تو استخارہ کی ضرورت نہیں۔بڑے ابا جان نے اپنے تمام بہن بھائیوں اور اپنے سب بچوں کی شادیاں اپنے ہاتھوں کیں اور اپنے بچوں کے بچوں میں سے صرف میں ہوتی ہوں جس کا رشتہ بڑے ابا جان کی زندگی میں ہی ان کی رضا مندی ، مشورہ اور خاص دعاؤں سے طے ہو گیا تھا اور خدا کے بے حد فضل و کرم سے اپنے گھر میں خوشحال ہوں۔الحمد لله ثم الحمد لله بڑے ابا جان سے ہمارا جو تعلق تھا وہ ان کی وفات سے ٹوٹا نہیں۔کیونکہ خوابوں میں اکثر نظر آتے ہیں۔بعض عجیب واقعات ہوئے ہیں کہ جب میری شادی ہوئی تو میرے میاں ولید احمد حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی خدمت میں باقاعدہ دعا کے لئے خط لکھا کرتے تھے۔ایک دن صبح بنتے ہوئے نیچے آئے کہ تمہارے بڑے ابا جان نے تو میرا خرچ بڑھا دیا ہے میں نے پوچھا تو کہنے لگے کہ آج رات خواب میں بڑے ابا جان آئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ امتحان قریب ہیں حضور کو دعا کے لئے محلا لکھو تو ولید نے کہا کہ خط تو میں لکھتا ہوں تو فرمانے لگے کہ روزانہ ایک خط لکھو تو ولید نے تھوڑی سے "