حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 839 of 923

حیاتِ خالد — Page 839

حیات خالد 828 گلدستۂ سیرت ه مکرمه امتہ الباسط ایاز صاحبہ اہلیہ محترم ڈاکٹر افتخار احمد صاحب ایاز سابق امیر جماعت احمد یہ طوالو، جنوبی بحر الکاہل و سابق امیر جماعت احمد یہ برطانیہ تحریر فرماتی ہیں:- ۲۰ مارچ ہماری بیٹی عزیز و امتہ الرافع سلمیا کی پیدائش کا دن ہے۔ابا جان نے اپنے مکان بیت العطاء واقع دار الرحمت وسطی ربوہ کا سنگ بنیاد ۱۹ار مارچ کو رکھنا تھا۔میرے بھائی جان کو یاد آیا کہ کل ۲۰ / مارچ ہے جو ہماری بھانجی امتہ الرافع سلمہا ( جو کیلیفورنیا میں مکرم شاہد عباسی سے بیاہی ہوئی ہیں) کا یوم پیدائش ہے۔ابا جان نے یہ سنا تو جھٹ پروگرام تبدیل کر دیا کہ ہم اپنے مکان کی بنیاد بھی کل ہی رکھیں گے کہ باسط خوش ہو گی۔یہ تھی ہمارے ابا جان کی دلداری اور شفقت جو انہیں اپنی بیٹیوں اور پھر نواسیوں سے تھی۔ابا جان ہمیں لاڈ پیار بھی بہت کرتے تھے۔مگر بچوں کو بگاڑنا یا بے جا خرچ کرنا بچوں کی تربیت پسند نہ کرتے تھے۔رسم و رواج کے سخت مخالف تھے بچپن میں بعض بچے بائیں ہاتھ سے کھانا کھانے یا لکھنے لگ جاتے ہیں۔یا بیٹیوں کے بعد پیدا ہونے والا بیٹا بیٹیوں کی تقلید میں میں کروں گی میں کھاؤں گی وغیرہ کہنے لگ جاتا ہے۔ہمارے ابا جان جب بھی کسی ایسے بچے کو ایسی 6 باتیں کرتے دیکھتے یا بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے دیکھتے یا لکھتے دیکھتے تو ناراض ہوتے۔اور اگر کوئی بچہ چیز یا انعام کا تحفہ بائیں ہاتھ سے لینا چاہتا تو اپنا ہاتھ روک لیتے اور کہتے کے دایاں ہاتھ آگے کرو۔یہ عادت ہٹاؤ ورنہ یہ عادت پختہ ہو جائے گی۔ان باتوں کی بڑی تاکید کرتے اور گاہے گاہے منع کرتے رہتے۔اسی طرح جو تے ہمیشہ پہلے دائیں پاؤں اور پھر بائیں پاؤں میں پہنے کی تلقین کرتے۔اسلامی تعلیمات کے بارے میں اکثر ذکر کرتے رہتے کہ رسول کریم ہے اس طرح کیا کرتے تھے۔فرماتے کہ لڑکوں کو مردانگی سکھاؤ۔عورتوں کے سے چونچلے ان کو لڑکوں کے لئے پسند نہ تھے۔گھر میں سب کو خوش اور صحت مند دیکھنا چاہتے تھے اس کے لئے بساط بھر کھلا خرچ کرتے۔کوئی بیمار ہو جاتا تو جہاں فکر کرتے وہاں تو کل اللہ پر رکھتے اور دعا میں مشغول ہو جاتے۔اور بیماری کی وجہ خوراک کی کمی یا آرام کی کمی ہی خیال کرتے۔باوجود اس کے کہ ہم واقف زندگی باپ کے بچے تھے ابا جان نے ایسی تربیت ہماری کی تھی کہ کبھی کسی کمی کا احساس نہ ہوتا تھا۔ہم پیٹ بھر کر کھاتے تھے اور خوب محنت سے پڑھتے تھے اور گھر کا سارا کام اپنے ہاتھوں سے کرتے تھے۔اور بہت خوش رہتے تھے۔کبھی چیزوں کی کمی یا خوراک کی کمی کا احساس نہ ہوتا تھا۔پیار ہمیں والدین کی طرف سے بے انتہاء ملتا