حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 83 of 923

حیاتِ خالد — Page 83

حیات خالد 87 اساتذہ کرام بظاہر یہ سیر ہوتی تھی مگر درحقیقت پر بہترین درسگاہ ہوتی تھی۔حضرت حافظ صاحب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل اور خلیفتہ المسیح الثانی کے واقعات کے علاوہ پرانے بزرگوں کے بھی ایمان افروز واقعات سناتے ، ادبی اور تاریخی تحقیقات سے مستفید فرماتے ، ہلکے پھلکے انداز میں سینکڑوں باتیں اس سیر میں ہی بیان کر دیتے تھے، اس لئے دل نہیں چاہتا تھا کہ اس موقع کو کبھی ضائع ہونے دیا جائے۔بعض دفعہ اور بزرگ یا دوسرے طلبہ بھی شریک سیر ہو جاتے تھے۔اس موقعہ پر لطائف و ظرائف کا بھی تذکرہ رہتا تھا۔حضرت حافظ صاحب اپنے بزرگ اساتذہ کی مہربانیوں کا تذکرہ لطف لے لے کر کرتے تھے اور ہم ان کی نوازشوں سے بہرہ اندوز ہوتے تھے۔اب تو وہ باتیں ایک سہانا خواب نظر آتی ہیں۔بہر حال ہماری روحیں اپنے بزرگ اساتذہ کے احسانات کا خیال کر کے ان کی بلندی درجات کیلئے دعا گو ہیں۔ان میں سے جو زندہ ہیں اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت دے اور جو اپنے ازلی ابدی آقا کے حضور حاضر ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے درجات اور بلند فرمائے اور ہمیں ان کی جملہ نیک صفات کا بہترین وارث بنائے۔اللهم امین یا رب العلمین“ الفرقان مئی ۱۹۷۰ء صفحه ۴۴ - ۴۵) حضرت حافظ صاحب کے ضمن میں ایک یاد گار غیر مطبوعہ تحریر پیش خدمت ہے جو ایک یاد گار تحریر حضرت مولانا کی ڈائری کا ایک ورق ہے۔حضرت مولا نا جب ۱۹۳۱ء میں بلاد عربیہ میں خدمت دین کیلئے تشریف لے گئے تو آپ نے روانگی سے قبل بزرگان احمدیت سے بعض ہدایات تجبر کا حاصل کیں۔ان ہدایات کو درج کرنے سے قبل آپ نے اپنے استاد حضرت حافظ روشن علی صاحب کا ذکر یوں فرمایا : - " بزرگان سلسلہ احمدیہ کی بیان فرمودہ ہدایات کا ذکر کرنے سے پیشتر میں اس احساس کو درج کئے بغیر نہیں رہ سکتا جو اس وقت استاذی المکرم حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔آپ ایک بہترین استاد، مربی اور ہمدرد مخلوق تھے۔اور یہ موقعہ ان کے وجود کی ضرورت کو بہت زیادہ محسوس کرا رہا ہے۔اے خدا! تو ازل الازل تک ان کی روح پر رحمتیں اور برکتیں نازل فرما۔ان کے درجات کو بلند فرما۔ہمارے متعلق ان کی جو خواہش تھی تو اس سے بڑھ کر ہمیں بنا۔آمین ثم آمین۔ابو العطاء قادیان - ۱۹۳۱-۲۶۷)