حیاتِ خالد — Page 82
حیات خالد 86 اساتذہ کرام میں اس کتاب کو اپنے اخلاص، عقیدت ، اور تلمذ خاص کے لحاظ سے استاذی المکرم حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم رضی اللہ تعالی ادام فیوضہ کے نام نامی و اسم گرامی سے معنون کرنے کا فخر حاصل کرتا ہوں۔نیازمند ابوالعطاء محبوب استاد کی باتیں تو ہزاروں ہیں۔خلاصہ یہی ہے کہ آپ ایک مثالی عالم ربانی تھے۔عبادت میں انہماک رکھنے والے اور ملہم و صاحب کرامات بزرگ تھے۔تھوڑا عرصہ ہوا میں نے آپ کو خواب میں دیکھا بہت ہی باتیں ہوئیں آخر میں میں نے ان سے پوچھا کہ " حضرت اجس جگہ آپ ہیں کیا وہاں پر کبھی میرا بھی ذکر ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں وہاں آپ کا اچھا ذ کر ہوتا ہے"۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے پیارے استاد حضرت حافظ روشن علی صاحب کو جنت الفردوس میں بلند سے بلند مقام عطا فرمائے اور ہمارے دوسرے بزرگ اساتذہ کے درجات بھی بلند کرے اور ہم سب کو ان نیک بزرگوں کے نمونہ پر چل کر اللہ تعالیٰ کی توحید اور جملہ انبیاء میہم السلام کے مقاصد عالیہ کو زمین میں پھیلانے کی توفیق بخشے اور وہ ہم سے راضی ہو جاۓ۔اللھم آمین یا رب العالمین“۔(الفرقان دسمبر ۱۹۶۸ء) حياة ابی العطاء " کے تحت حضرت مولانا نے اپنی زندگی کے اہم واقعات قلمبند فرمائے ہیں ان میں اپنے اساتذہ کرام کے ضمن میں حضرت حافظ روشن علی صاحب کا ایک بار پھر ذکر فرمایا۔حضرت مولانا نے لکھا ( حضرت حافظ صاحب کے بارے میں یہ آپ کی آخری تحریر ہے ) ہمارے با قاعدہ قضیمی دور کے آخری استاذ الاساتذہ حضرت حافظ روشن علی صاحب استاذ حضرت حافظ روشن علی صاحب تھے۔ان کی شفقت اور رافت تو ضرب المثل تھی۔میں نے الفرقان کے ” حضرت حافظ روشن علی نمبر میں کچھ واقعات ذکر کئے ہیں مگر میرا احساس یہی ہے کہ ان کی محبت اور تعلیم سے لگن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ہماری مبلغین کلاس کے وہ واحد استاد تھے۔سارے مضامین وہی پڑھاتے تھے اور ہماری ساری تربیت اور تبلیغی ٹرینگ کے وہی آخری انچارج تھے۔ان کا سلوک طلبہ سے صرف استاد کا سلوک نہ ہوتا تھا وہ ایک شفیق باپ کی طرح حسن سلوک کرتے تھے۔طلبہ کی جملہ ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔ان کی عادت تھی کہ صبح کی نماز کے بعد دو اڑھائی میل کی سیر کیلئے ضرور جاتے تھے۔میں اپنے عرصہ تعلیم میں بالعموم مسجد مبارک قادیان کی نماز فجر سے فارغ ہو کر ان کے ہمراہ سیر کیلئے جایا کرتا تھا۔