حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 830 of 923

حیاتِ خالد — Page 830

حیات خالد قبول ہوتی نظر آ رہی ہیں۔819 گلدسته سیرت میرا یہ بیٹا اب کنگز کالج لندن یو نیورسٹی سے جنوری ۲۰۰۰ ء میں پی ایچ ڈی کر چکا ہے۔میں سمجھتی ہوں یہ سب میرے مولا کے فضل و احسان کے بعد حضرت ابا جان کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔فالحمد لله على ذلك مكرم عطاء المنان صاحب حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے برادر اصغر ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں۔جب میں نے ہوش سنبھالا تو محترم بھائی جان عرب ممالک سے واپس قادیان تشریف لا چکے تھے۔میری صحت کمزور تھی اس لئے وہ میراخاص خیال رکھتے تھے۔چوتھی جماعت کے بعد مجھے مدرسہ احمدیہ میں داخل کیا گیا لیکن میرا دل پڑھائی میں نہ لگتا تھا۔میں نے بھائی جان سے کہا کہ میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔محترم بھائی جان نے کسی عذر کے بغیر مجھے ہائی سکول میں داخل کروادیا لیکن میں پانچویں جماعت میں پاس نہ ہو سکا۔اس دوران میری والدہ محترمہ وفات پاگئیں۔اس صورت حال میں میں نے پڑھائی سے بالکل انکار کر دیا اور میں تقریبا ایک سال بالکل فارغ رہا۔میں نے پڑھائی کی بجائے کوئی کام سیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو بھائی جان نے مجھے کارخانہ میں کام پر جانے کی اجازت دے دی۔ایک سال کے بعد کام سے بھی میرا جی اچاٹ ہو گیا اور میں نے پھر سے پڑھائی کی خواہش ظاہر کی۔بھائی جان نے کمال شفقت سے مجھے پڑھائی کی اجازت دے دی۔حالانکہ مجھے اس - وقت تیس روپے ماہوار مل رہے تھے اور کارخانہ کے مالک نے کہا کہ میں اس کو ساٹھ روپے ماہوار دینے کو تیار ہوں، اس کو کام کرنے دیں۔مگر بھائی جان نے میری خواہش کا احترام کرتے ہوئے مجھے سکول میں داخل کروا دیا۔اس دوران میری باقی جان محترمہ باجر و بیگم صاحبہ نے کمال محنت سے مجھے پڑھائی میں بہت مدد دی اور مجھے اس قابل بنا دیا کہ میں چھٹی جماعت کا امتحان دے کر ساتویں میں داخل ہو گیا۔اللہ تعالیٰ ان سب کو بہت بہت اجر دے جنہوں نے مجھے پڑھائی کی ترغیب دی اور میری مدد کی۔(آمین ) اور اس طرح مجھے یہ احساس ہی نہ ہونے دیا کہ میرے والدین موجود نہیں ہیں۔اسی طرح میری شادی کے لئے انہوں نے بہت دعا اور کوشش کی اور شادی کے تمام اخراجات خود برداشت کئے۔۱۹۷۴ء کے ابتلاء کے دوران میں بے روز گار ہو گیا تو محترم بھائی جان نے کمال مہربانی سے