حیاتِ خالد — Page 804
حیات خالد 793 گلدسته سیر محترم مولانا محمد صدیق صاحب گورداسپوری رقم فرماتے ہیں:۔یہ دنیا ایک سرا ہے جس میں کسی کو ثبات حاصل نہیں۔جو بھی یہاں آیا اس کے لئے ایک دن کوچ مقدر ہے۔اور اس دار فانی سے منہ موڑ کر اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہونا لازمی ہے۔مگر باوجود اس حقیقت کے بعض وجود اس انداز سے زندگی بسر کرتے ہیں کہ ان کی جدائی پسماندگان کے لئے ہی نہیں، دوستوں اور احباء کے لئے ہی نہیں ایک قوم کے لئے سوہان روح بن جاتی ہے۔اور ان کی موت سے ایک ایسا خلا محسوس ہونے لگتا ہے کہ جو بظاہر پر ہوتا نظر نہیں آتا۔ایسے خوش قسمت اور مبارک وجود اپنے علم و فضل، اعلیٰ کردار، اخلاق حسنہ اور بنی نوع انسان اور اسلام کی بے لوث خدمت میں اپنے بے نظیر کارناموں سے ایسے انمٹ نقوش اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔کہ ان کی موت بھی حیات جاودانی کی حیثیت رکھتی ہے۔ہر گز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق ثبت بر جریدہ عالم دوام استاذی المکرم حضرت مولانا ابوالعطاء جالندھری ایسے ہی قابل فخر اور قابل رشک وجودوں کے زمرہ میں شامل تھے جنہیں خدا تعالیٰ نے اشاعت اسلام خدمت قرآن مجید اور دعوت الی اللہ کے لئے چن لیا تھا۔آپ کے جملہ فضائل اور خصائص اور جذبہ فدائیت کی وجہ سے حضرت فضل عمر نے آپ کو خالد احمدیت جیسے قابل فخر خطاب سے سرفراز فرمایا۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند کرے اور آئندہ نسلوں کو آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔آمین آپ مزید تحریر فرماتے ہیں:۔حضرت مولانا ابو العطاء جالندھری گوناں گوں صفات کے مالک انسان تھے۔پائے کے عالم ، اچھے دوست ، عاشق رسول، احمدیت کے فدائی اور خلفائے احمدیت کے ہمیشہ مطیع و فرمانبردار۔آپ پیکر اینا رو وفا تھے۔متوکل علی اللہ، صابر و شاکر ، بے نفس، متواضع ، قانع، دعا گو اور اليد العليا کے وصف سے متصف تھے۔آپ بے حد خلیق تھے۔گفتگو میں شگفتگی اور طبیعت میں مزاح بھی تھا۔سادگی اور نفاست آپ کا شعار تھا۔اللہ تعالیٰ ہزاروں رحمتیں اور برکتیں اس خالد احمدیت کی روح پر نازل فرمائے اور انہیں اپنے قرب خاص میں جگہ عطا فرمائے۔مکرم محمد عبد اللہ قریشی صاحب آڈیٹر صدرانجمن احمد یہ لکھتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی بفضل ایزدی نہایت لائق ، ہونہار اور ذہن