حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 803 of 923

حیاتِ خالد — Page 803

حیات خالد 792 گلدستۂ سیرت ملازمت کے لئے دعا کر رہے ہیں۔کسی کے رشتہ کی تلاش ہے۔کسی غریب کی امداد کا فکر ہے، کسی بیوہ کی دیکھ بھال کا انتظام کسی یتیم کی کفالت کسی بے کس کا سہارا، کسی غمزدہ کی ڈھارس !!! امام وقت کی اطاعت ایسی کہ حضور ایدہ اللہ کے اشاروں کو سجھتے اور ہر ممکن خدمت بجالانے کی کوشش کی۔بیان پر اثر تحریرشتہ اور رواں، انداز پر لطف ، چہرے کی بشاشت ہمیشہ قائم ، ہر ادا پر وقار، تو کل کی اعلیٰ شان ، غیرت دینی کا جذبہ اور پابندی عہد و پیمان کے اوصاف، آپ کی زندگی میں نمایاں تھے۔کسی کو دھوکہ نہ دیا ، قول سدید سے کام لیا۔دل کو کینہ و بغض سے پاک رکھا۔حتی الامکان لطف و احسان عام رہا۔غرضیکہ آپ کے کس کس خلق کا تذکرہ کروں ؟ آپ کے کس کس وصف کا تذکرہ کروں، غم نے نڈھال کر رکھا ہے۔تفصیل کی طاقت نہیں پاتا۔اے خالد احمدیت خدا کے فضل سے تو نے اپنا فرض ادا کر دیا۔خدا تعالی کی جنتوں میں خوش کرہ۔ہم تم کے ماروں اور کمزوروں کو بھی خدا اس حسن عمل سے نوازے جو تیری تمنا تھی۔تجھے خدا کے سپرد الفضل ۳ جون ۱۹۷۷ء صفحه ۴) کیا۔خدا تیرے سوگواروں کو سہارا دے۔آمین!! "" محترم ملک محمد حنیف صاحب لکھتے ہیں :- مرحوم کو اپنی زندگی میں بار ہا اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر آپ کے ذاتی اوصاف میں استغناء کا پہلو نمایاں تھا۔سادہ اور منکسر المزاج تھے۔لیکن اللہ ، رسول ﷺ اور سلسلہ کے لئے بہت غیرت رکھتے تھے۔خلیفہ وقت کی اطاعت اور فرمانبرداری کو جزو ایمان سمجھتے تھے۔(الفضل اور جولائی ۱۹۷۷ صلحیم) ه محتر مہ امتہ الرحمن صاحبہ بیگم ڈاکٹر عبدالسمیع صاحب مرحوم بنت حضرت مولانا لکھتی ہیں :- ”میرے ابا جان نے ہر بات میں دین کو دنیا پر مقدم رکھا۔اپنے بچوں کو اعلی تعلیم بھی اسی انداز میں دلائی۔آپ نہایت سادہ طبیعت کے مالک تھے بناوٹ اور تصنع بالکل نہیں تھا۔اگر کسی کو نصیحت کرنی ہوتی تو بھی اس طرح کرتے کہ دوسرے کو محسوس نہ ہو۔سلسلہ کی خدمت کرنے میں بڑی خوشی محسوس کرتے تھے۔جس جگہ بھی آپ کو متعین کیا گیا آپ نے بڑے اطمینان سے کام کیا۔خدا تعالی پر بڑا تو کل تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل بھی ہمیشہ ساتھ رہے۔سب رشتہ داروں سے اچھا سلوک رکھا۔مہمان نواز تھے۔کسی کی ضرورت کا پتہ چلتا تو پوری کرنے کی کوشش کرتے۔جب کوئی گھر سے رخصت ہوتا تو سب کو اکٹھا کر کے دعا کراتے اور باہر تک چھوڑ کر آتے۔چہرہ ہمیشہ متسم رہتا۔