حیاتِ خالد — Page 786
حیات خالد 775 گلدستۂ سیرت ایک دفعہ گرمیوں کے موسم میں آپ سبحان پور (پٹھانکوٹ ) گئے۔آموں کا موسم تھا اور وہاں کثرت سے آم ہوتے تھے۔چنانچہ ہم سب کو خوب آم کھلائے۔محترم مرز اعطاء الرحمن صاحب مرحوم رقم فرماتے ہیں :- یہ اس زمانے کی بات ہے جب کہ آپ کی اہلیہ اول حیات تھیں ( المیہ اول صاحبہ کی وفات ۱۱۔جنوری ۱۹۳۰ء کو ہوئی۔ناقل ) آپ قادیان کے محلہ دار الرحمت میں رہائش پذیر تھے۔حضرت مرزا محمد شفیع صاحب محاسب صدر انجمن احمدیہ کے مکان کی شرقی جانب ملحقہ مکان میں اور مولانا قمر الدین صاحب فاضل کے شمالی جانب ملحقہ مکان میں آپ کی رہائش تھی۔اس کے سامنے کھلا میدان تھا۔آپ نے وہاں میروڈ بہ شروع کروایا اور سب بڑے اطفال و خدام کو اس میں شامل کیا۔ہم سب محلہ کی مسجد میں عصر کی نماز ادا کرتے اور اس کے بعد کھیل شروع ہوتا۔حضرت مولانا صاحب اور ایک اور صاحب ایک ایک ساتھی چنتے جاتے اور پھر ٹاس کے بعد کھیل شروع ہو جاتا۔بعد میں جو بھی آتا جا تا شامل ہوتا جاتا۔اگر کسی سے کوئی نا واجب بات ہو جاتی تو حضرت مولانا صاحب اس کی فوری سرزنش کرتے اور سب بچوں کو آپس میں پیار اور محبت اور احترام سے رہنا سکھاتے اور بداخلاقی کو بالکل برداشت نہ فرماتے اور ساتھ ہی خیال رکھتے کہ بچے نمازوں میں حاضر ہوں۔کھیل اور تفریح کا یہ سلسلہ بچوں کی آوارگی سے بچانے کا سنہری اصول تھا۔اس سے نو جوانوں کو صحت و تندرستی بھی حاصل ہوتی اور ان کی صحیح تربیت بھی ہوتی۔یہ آپ کا مجھ جیسے نابکاروں پر بڑا احسان تھا۔فجزاهم الله احسن الجزا مکرم منصور احمد صاحب بی ٹی لندن رقم فرماتے ہیں:۔حضرت مولانا صاحب کی جو تصویر میں اب پیش کر رہا ہوں وہ ان کی عالمانہ شخصیت کے متعلق نہیں کہ جس میدان علم و روحانیت کے وہ شہسوار تھے مگر یہ ان کی عظمت تھی کہ وہ ہم جیسے کھلنڈروں سے بھی عجیب انداز میں محبت کرتے تھے۔مثلاً وہ قادیان کی روحانی زندگی میں تو پیش پیش تھے ہی۔مگر کھیل اور تفریح کے میدان میں بھی وہ برابر آگے ہوتے تھے۔موسم گرما میں ہم اہل قادیان گاہے گاہے ٹرپ منایا کرتے تھے۔جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اپنے اپنے گھروں سے اپنا کھانا متکے والی نہر پر ( جسے عرف عام میں تتلیاں والی شہر بھی کہا جاتا تھا ) لے جائیں اور وہاں دو پہر کا کھانا سب مل کر کھاتے اور اس نہر پر تیرا کی بھی ہوتی۔چنانچہ اس روز قادیان کا ہر خورد