حیاتِ خالد — Page 776
حیات خالد 765 گلدسته سیرت تربیتی لحاظ سے جماعت کو ایک معیار پر پہنچانے کا خیال ہمیشہ آپ کے دامن گیر رہا۔جماعت میں کثرت سے درس و تدریس کے اجراء کی تلقین فرماتے رہے۔نہ صرف تلقین بلکہ اس کا انتظام بھی کرتے رہے اور خود وعظ و تلقین کا جو ملکہ آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ تھا۔آپ کی فاضلانہ تقاریر ہمیشہ ہمیں گرماتی رہیں۔نماز میں جب کبھی حاضری کم ہوتی ہوئی نظر آتی اسے شدت سے محسوس کرتے اور اس جمود کو فورا دور کرنے کی کوشش کرتے آپ کی انہی دردمندانہ کوششوں کا نتیجہ تھا کہ ہماری مسجد نمازیوں سے بھری بھری نظر آتی تھی۔میں بلا مبالغہ کہ سکتا ہوں کہ آپ آسمان احمدیت کا درخشندہ ستارہ تھے۔حضرت نبی پاک ﷺ کی عادات طیبہ میں سے ایک خاص عادت صبح کی سیر ہے جو صبح کی سیر نماز فجر کے بعد کی جاتی ہے۔صبح کی تازہ ہوا میں سیر سے انسانی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے احمدیت بھی اس طریق پر عمل پیرا رہے ہیں۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری بھی کم و بیش زندگی بھر اس معمول پر عامل رہے اور صبح نماز فجر کے بعد چند دوستوں کے ہمراہ سیر پر جایا کرتے۔آپ کے بارے میں مضامین لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ سیر حضرت مولانا کے معمولات کا ایک بڑا دلچسپ اور اہم حصہ تھی۔چند احباب کرام کی آراء ملاحظہ ہوں۔مکرم خواجہ عبد المؤمن صاحب حال مقیم اوسلو (ناروے) لکھتے ہیں : - مجھے آپ کے ساتھ کئی سال اکٹھے سیر کرنے کا موقعہ ملا۔سیر کے دوران ہنسی مذاق اور لطیف مزاح کی باتیں ہوتی تھیں جو سیر کے لطف کو دوبالا کر دیتیں۔دوست اپنے شوق سے باری باری جامعہ کی ٹک شاپ پر سیر کے بعد رک کر چائے پلواتے۔تاہم جس دن کسی دوست کا موڈ نہ ہوتا تو اس دن حضرت مولوی صاحب موصوف خود اپنی جیب سے ادائیگی کرتے اور بڑے اصرار سے دوستوں کو چائے پلاتے اور پھر چند منٹ کی جو مجلس جمتی اس کا خوشگوار اثر سارا دن طبیعت پر حاوی رہتا۔مجھے یاد ہے کہ ایک دن ہم سیر کرتے کرتے ربوہ کے قریبی گاؤں کھچیاں کی طرف نکل گئے۔حضرت مولوی صاحب نے تمام دوستوں کے لئے باغ سے امرد و خریدے اور پھر سب نے وہیں بیٹھ کر اور مزے لے لے کر وہ تازہ امرد و کھائے۔اس طرح ایسا بھی کئی بار ہوا کہ اصرار کر کے اپنے سیر کرنے والے ساتھیوں کو اپنے ساتھ