حیاتِ خالد — Page 775
حیات خالد 764 گلدستۂ سیرت محررہ تحریر میں لکھتے ہیں۔عرصہ قریبا پندرہ سال کا گزرا ( قریبا ۱۹۷۵، بنتا ہے۔ناقل ) خاکسار نے مندرجہ ذیل خواب دیکھا۔وادی مکہ مکرمہ کے ایک میدان میں لوگوں کا ایک کثیر انبوہ سامنے کی طرف منہ کر کے بیٹھا ہے۔ہجوم کے سامنے چند گز کے فاصلے پر اس ہجوم کی طرف منہ کئے تین احباب ساتھ ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ان تین میں سے درمیان والے تو حضرت مولوی ابوالعطاء صاحب ہیں ان کے دائیں ایک قد آور سیاہ قام آدمی ہے اور بائیں جانب ایک پاکستانی ہے۔اس نظارہ کو دیکھ کر میں نے پوچھا کہ یہ کیا سماں ہے؟ جواب ملا کہ اس سال صرف ان تین احباب کا ہی حج قبول ہوا ہے۔ابھی تھوڑی دیر میں شاہ فیصل خود تشریف لانے والے ہیں اور ان کو بطور انعام شاہی خلعت دیں گے۔جب خاکسار ربوہ کے جلسہ سالانہ میں شمولیت کی غرض سے پاکستان گیا تو اس خواب کا ذکر میں نے حضرت مولوی صاحب سے کیا۔آپ نے خواب سن کر فرمایا۔بہت مبارک خواب ہے۔اسے حضرت صاحب کی خدمت میں لکھ بھیجیں۔چنانچہ میں نے یہ خواب لکھ کر حضرت خلیفہ اسبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کر دی۔بحیثیت صدر جماعت احمد یہ احمدنگر میں محترم چو ہدری محمد ابراہیم صاحب ایم اے سابق احمدی احمدی مینا مینیجر ماہنامہ انصار اللہ ربوہ لکھتے ہیں :- میں نے مولانا صاحب کو کافی قریب سے دیکھا ہے اگر چہ ان کے اوصاف کا ہر جہت سے احاطہ کرنا میرے جیسے کم مایہ انسان کے لئے ممکن نہیں مگر جن زادیوں سے میں ان کو دیکھ سکا ہوں اس کے مطابق بے شمار خوبیوں کو ان کے اندر پایا ہے۔مولانا صاحب کئی سال احمد نگر کی جماعت کے صدر رہے اس دوران اپنی خدا داد علمی قابلیت اور اپنے نیک نمونہ سے جماعت کے فعال بنانے اور ان کے اندر دینی روح پیدا کرنے کی طرف خاص توجہ فرماتے رہے۔درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہتا۔مغرب کی نماز کے بعد بعض اوقات عشاء کے بعد مسجد میں تشریف رکھتے۔احباب ارد گرد جمع ہو جاتے حسب حالات نصائح اور اپنے دلچسپ تبلیغی واقعات سناتے۔خاص طور پر نوجوانوں کو تلفظ کی درستی پر زور دیتے۔دیہات میں اگر کسی وقت دو احمدیوں کے درمیان کوئی تنازعہ ہو جاتا تو دونوں کو بلا کر تصفیہ کروا دیتے ان کی شخصیت اور ناصحانہ انداز ایسا با اثر ہوتا کہ اکثر اوقات معاملہ حل ہو جاتا۔