حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 75 of 923

حیاتِ خالد — Page 75

حیات خالد 79 اسا تذہ کرام حافظ صاحب مبلغین کلاس کے واحد استاد تھے۔سارے مضامین وہی پڑھاتے تھے۔گویا مبلغین کی ہر لحاظ سے ٹریننگ کا آغاز آپ ہی سے ہوتا تھا اور آپ ہی پر ختم ہوتا تھا۔ترتیب کے لحاظ سے آپ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے آخری استاد گرامی تھے۔حضرت حافظ صاحب کی وفات ۲۳ جون ۱۹۲۹ء کو قادیان میں ہوئی۔وفات کے دوسرے دن ۲۴ جون کو حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے ایک نوٹ لکھا جو الفضل ۲۸ جون ۱۹۲۹ء میں شائع ہوا۔بعد ازاں آپ نے الفرقان کے حضرت حافظ روشن علی نمبر ( دسمبر ۱۹۶۸ء) کے شمارے میں بھی اسے شائع کیا۔وہ نوٹ یہ ہے :- حضرت حافظ روشن علی صاحب کا آخری پیغام اپنے شاگردوں کے نام ” میرے شاگرد ہمیشہ تبلیغ کرتے رہیں۔وو آو آج احمدیت کا بہت بڑا درخشندہ ستارہ غروب ہو گیا اور ہزاروں لاکھوں کو وقف الم بنا گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ حضرت حافظ صاحب کی رحلت سے ہر شخص کو اس کی معرفت کے مطابق صدمہ ہوا ہے۔وہ لوگ جن کو آپ سے شرف تلمند حاصل تھا اور جنہوں نے آپ کی محبت بھری شاگردی میں چند ایام بھی بسر کئے ہیں وہ اس ناقابل برداشت جدائی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔آپ اپنے شاگردوں کیلئے نہ صرف بہترین معلم تھے بلکہ نہایت ہمدرد اور شفیق باپ بھی تھے۔شاگردوں کی کوئی ضرورت ایسی نہ ہوتی جس کے پورا کرنے میں آپ کو شاں نہ ہوں۔بایں ہمہ کمال یہ تھا کہ کبھی اپنے استاد ہونے کا خیال تک نہ آیا۔آپ کا تقوی الہی خلوص اور شوق جہاد کا اثر تھا کہ ہر طالب علم سو جان سے آپ پر نثار ہوتا تھا۔ایام مرض میں بھی آپ نے اپنے ان نو نہال پودوں کو اپنی تربیت کے ذریعہ نشو ونما بخشا اور ان کے سامنے اعلیٰ اخلاق کا اسوہ حسنہ پیش کیا۔آپ کی صحبت زرین کے گوہر بے بہا میں سے کچھ کسی دوسرے وقت عرض کروں گا۔انشاء اللہ۔فی الحال میں آپ کے شاگردوں کو جہاں اس صدمہ جانگاہ سے اطلاع دیتا ہوں وہاں انہیں حضرت حافظ صاحب کا آخری پیغام بھی پہنچاتا ہوں۔آپ نے وفات سے قبل بلور وصیت اپنے شاگردوں سے ارشاد فر ما یا : - ”میرے شاگرد ہمیشہ تبلیغ کرتے رہیں۔میرے نزدیک آپ کے جملہ متعلمین کیلئے یہ عمر بھر کا نصب العین ہے۔تبلیغ کا فرض ہر احمدی کے کا