حیاتِ خالد — Page 748
حیات خالد 737 گلدستۂ سیرت کسی کو اس بارہ میں سرزنش نہیں کی۔بلکہ ہمیشہ محبت و پیار سے ایسے طلباء کو سمجھانے کی کوشش فرماتے۔اپنے شاگردوں کی آپ ہمیشہ حوصلہ افزائی فرماتے اور انہیں مضامین لکھنے کی ترغیب دیتے۔ایک بار خاکسار کی ملاقات آپ سے گولبازار میں ہوگئی۔فرمانے لگے آپ نے ایک مضمون جامعتہ المبشرین میں کسر صلیب پر لکھا تھا۔میں نے دیکھا ہے بہت اچھا ہے۔لہذا میں نے اسے آئندہ الفرقان کے شمارہ میں شائع کرنے کے لئے منتخب کر لیا ہے نیز مزید مضامین لکھنے کی کوشش کریں۔اپنے شاگردوں کی تبلیغی میدان میں کامیابیوں پر بہت خوش ہوتے اور دلجوئی فرماتے۔خاکسار جب ۱۹۶۶ جنوری میں بطور پرنسپل مشنری کالج اپنی فیملی کے ساتھ نا نا روا نہ ہونے والا تھا تو اس وقت میں خدام الاحمدیہ ربوہ کا نائب مہتم مقامی اور معتمد تھا لہذا مکرم چوھدری عبدالعزیز ڈوگر صاحب مہتمم مقامی نے تحریک جدید کے دفاتر کے لان میں ایک الوداعی پارٹی کا انتظام کیا۔حضرت مولانا اس مجلس کے صدر تھے۔خاکسار نے ایڈریس کے جواب میں کہا کہ چونکہ میں فیملی کے ساتھ جارہا ہوں اس لئے ہو سکتا ہے کہ واپسی پر میری عمر خدام الاحمدیہ کی حدود سے تجاوز کر چکی ہو لہذا آج کی تقریب خدام الاحمدیہ میں میری آخری تقریب ثابت ہو۔اس پر حضرت مولانا نے اپنی صدارتی تقریر میں فرمایا کہ جماعت احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے خلافت کی برکت سے ایک ایسا نظام عطا فرمایا ہے کہ انسان جس عمر میں بھی ہو اس کے لئے کام کے مواقع میسر ہیں۔لہذا واپسی پر اگر آپ خادم نہیں ہوں گے تو انصار اللہ میں داخل ہو چکے ہوں گے۔لہذا ہم آپ سے انصار اللہ میں کام لیں گے۔آپ فکر نہ کریں۔پھر خاکسار کے تبلیغی کام کی تعریف کی اور حوصلہ افزائی فرمائی اسی طرح خاکسار جب ۱۹۷۳ء میں امریکہ کے لئے روانہ ہونے لگا تو اپنے گھر دعوت دی اور نہایت ہی مشفقانہ انداز میں تبلیغ کے بارہ میں نصائح سے نوازا اور فر مایا مبلغ کا اصل ہتھیار تو دعا ہے اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔محترم عبد الحمید صاحب عاجز آف قادیان لکھتے ہیں :- ۳۷۔1936ء میں جب خاکسار ایف اے کا طالب علم تھا تو ان دنوں گرمی کی تعطیلات میں مسجد اقصیٰ قادیان میں حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھرتی کالج کے طلباء اور دوسرے دلچپسی رکھنے والے معمر افراد کے فائدہ کے لئے عربی کی کلاس لیا کرتے تھے۔مجھے بھی اس کلاس میں شامل ہونے کا موقع ملتا رہا ہے۔محترم مولانا صاحب کے بات سمجھانے کا طریق اس قدر دلچسپ اور دلنشین ہوتا تھا کہ صدر انجمن کے بعض معمر کا رکنان بھی اس کلاس میں شریک ہوا کرتے تھے۔ان میں سے محترم ملک مولا