حیاتِ خالد — Page 718
حیات خالد 707 گلدستۂ سیرت کو بہت فائدہ ہوا اور خلیفہ وقت کے قریب رہ کر فیض حاصل کرنے اور حضور کی دعاؤں کا سرمایہ جمع کرنے کی سعادت پائی اور یہ قیمتی سبق حاصل ہوا کہ خلیفہ وقت کی دعائیں ہی سارا کام کرتی ہیں۔مکرم رانا ناصر احمد صاحب سابق محافظ حضرت خلیفہ اسیح الثالث فرماتے ہیں۔حضرت خلیفتہ امیج الثالث حضرت مولوی صاحب کا کس درجہ خیال کرتے تھے اس کی ایک مثال یہ واقعہ ہے۔وو " نائب ۱۹۶۹ء کا واقعہ ہے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ امسح الثالث" ایبٹ آباد کے سعید ہاؤس میں گرمیاں گزار رہے تھے۔ہم بھی وہاں ڈیوٹی پر تھے۔وہاں پر حضرت مولوی ابوالعطاء صاحب تشریف لے گئے۔نماز کا وقت ہوا تو حضور نے خود حضرت مولوی صاحب کو حکم دیا کہ آپ نماز پڑھائیں۔مولوی صاحب نے عرض کی حضور میں تو نماز قصر پڑھوں گا۔حضور نے فرمایا کوئی حرج کی بات نہیں۔آپ قصر پڑھیں ہم پیچھے پوری نماز پڑھیں گے۔حضور نے اعلان کروا دیا کہ مسافر احباب قصر نماز پڑھیں گے اور باقی ہم لوگ پوری پڑھیں گے۔چانچہ حضرت مولوی صاحب نے نماز پڑھائی اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے آپ کے پیچھے نماز ادا کی اور بعد میں نماز مکمل کرلی۔0 مکرم شیخ محمد یونس صاحب شاہد لکھتے ہیں۔آپ جب کبھی حضرت خلیفہ اصبح الثالث کے ارشاد پر بیت الاقصیٰ میں خطبہ دیتے تو میں نے نوٹ کیا کہ اکثر آپ کے ہر خطبہ کا اختتام اس بات پر ہوتا تھا کہ خلافت کی اطاعت اور فرمانبرداری ہمارا فرض اور نصب العین ہے اور تمام ترقیات کی راہیں خلافت کی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔میرے دل پر آپ کی ان باتوں کا گہرا اثر ہے اور میں ہمیشہ یہ سوچتا ہوں کہ آپ کو خلفاء جماعت احمدیہ سے غیر معمولی تعلق تھا اور خلفاء کی اطاعت و فرمانبرداری گویا آپ کی زندگی کا جز ولازم تھی۔حضرت مولانا کے داماد مکرم منیر احمد صاحب منیب پروفیسر جامعہ احمد یہ ربوہ خلافت 0 سے آپ کے گہرے تعلق اور عقیدت کے بارہ میں ایک نکتہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- خلافت سے اتنا گہرا قلبی تعلق اور لگاؤ تھا کہ آپ کا شاید ہی کوئی محلط خلیفہ وقت کے ذکر سے خالی ہو۔کبھی حضور کی مصروفیات اور دینی مہمات کا تذکرہ اور کبھی حضور کی صحت کا ذکر۔آپ کا یہ طریق نکتوب الیہ کے دل میں بھی خلافت سے لگاؤ اور محبت سے تعلق کو مضبوط کرنے کا موجب ہوتا“۔