حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 717 of 923

حیاتِ خالد — Page 717

حیات خالد صاحب کے بارے میں ایک تحریر میں لکھتے ہیں :- 706 گلدستۂ سیرت خاکسار کو یاد ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ کے زمانہ میں خدام الاحمدیہ امریکہ نے خدام الاحمدیہ مرکز یہ ربوہ کو ایک ربڑ کی موٹر بوٹ بطور تحفہ بھجوائی تھی۔ایک روز یہ پروگرام بنا کہ دریائے چناب پر پکنک منائی جائے اور سارا جامعتہ المبشرین حاضر ہو اور اس موقعہ پر حضور رضی اللہ عنہ کو بھی مدعو کیا جائے۔یہ ساری تجویز محترم مولانا صاحب موصوف ہی کی طرف سے تھی۔چنانچہ جب یہ تجویز حضور کی خدمت میں بھجوائی گئی تو حضرت مصلح موعودؓ نے از راہ شفقت اس کی منظوری عطافرمائی۔حضرت مولانا دراصل حضرت مصلح موعودؓ سے محبت کے عاشقانہ جذبات رکھتے تھے اور آپ کی شبانه روز مصروفیات کو دیکھ کر سوچتے تھے کہ کسی طرح آپ کو بھی کسی تفریحی پروگرام میں شامل کیا جائے۔تا کہ آپ کی صحت و تندرستی پر اچھا اثر پڑے۔چنانچہ جب منظوری آگئی تو حضرت مولانا کو یہ کشتی یاد آئی۔آپ نے سوچا کہ کشتی منگوا کر حضور کو دریا کی سیر کروائی جائے۔چنانچہ کشتی منگوالی گئی۔حضرت مصلح موعود بھی تشریف لاکر جامعہ کے طلباء اور اساتذہ کے ساتھ اس پکنک میں شامل ہوئے اور پروگرام سے محظوظ ہوئے۔0 مکرم عبدالوہاب احمد صاحب سابق امیر ومشنری انچارج تتزادیہ لکھتے ہیں:۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب میں ایک یہ خوبی بھی پائی جاتی تھی کہ امام وقت کے فرمان کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔خاکسار نے جب دفتر وقف عارضی میں رپورٹ کی تو مجھے ہمراہ لے کر حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میری طرف اشارہ کرتے ہوئے عرض کی اب ان کی ڈیوٹی دفتر وقف عارضی میں لگی ہے۔حضور نے فرمایا۔”ہاں میں انہیں جانتا ہوں۔بہت اچھا کام کریں گے اس پر مولا نا بہت خوش ہوئے اور فرمایا۔حضور آپ کو اور آپ کے کام کو خوب جانتے ہیں۔مجھے تو پھر ایک اچھا ساتھی مل گیا ہے۔میں نے عرض کی حضور کی دعاؤں سے ہی سب کچھ ہے۔در نه من آنم کہ من دانم - حضرت مولانا صاحب کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ اپنے ماتحت عملہ اور رفقائے کار کوخلیفہ وقت سے زیادہ سے زیادہ فیض حاصل کرنے کا موقعہ فراہم فرماتے۔یہ عاجز ان کے اس احسان کا خاص طور پر مورد رہا۔جب مولانا عتکاف بیٹھتے تھے تو صرف اس دوران ہی نہیں بلکہ اکثر موقعوں پر مجھے ہی حضور کی خدمت اقدس میں ڈاک پیش کرنے اور ہدایات لینے کے لئے ارشاد فرماتے۔اس نوازش سے خاکسار